وفاقی وزیر قانون کا خاتون جج کی تعیناتی کیلئے دوبارہ کوشش کرنے کا اعلان

اسلام اباد: وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کا کہنا ہے کہ خاتون جج کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کی مخالفت کی گئی، اس معاملے پر جوڈیشل کمیشن میں شامل ججز کے رویے سے مایوسی ہوئی، وفاقی وزیر قانون نے خاتون جج کی تعیناتی کیلئے دوبارہ کوشش کرنے کا اعلان کردیا۔

وزیرقانون فروغ نسیم نے خواتین وکلاء کی ایوارڈ تقریب سے خطاب میں کہا کہ بار کونسلز اور بار ایسوسی ایشنز نے بھی خاتون جج کی تعیناتی کی مخالفت کی حیران کن طور پرانسانی حقوق کی بات کرنے والوں نے بھی خاتون جج تعینات کرنے کی مخالفت کی۔

وفاقی وزیر قانون کا کہنا تھا کہ خاتون جج کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کی دربارہ کوشش کرینگے، اس کے ساتھ ساتھ خواتین کو با اختیار بنانے اور انکے حقوق کیلئے قانون سازی کرتے رہیں گے۔

انہوں نے خواتین وکلاء فیلڈ میں آکر پریکٹس کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر خواتین وکلاء پریکٹس کرینگی تو ہی اعلی عدلیہ میں جج کیلئے نامزد ہو سکیں گی۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More