نور مقدم قتل کیس: ملزم ظاہر جعفر کو سزائے موت کا حکم

اسلام آباد: نور مقدم قتل کیس کے مرکزی مجرم ظاہر جعفر کو سزائے موت سنا دی گئی جبکہ اس کے والد ذاکر جعفر اور والدہ عصمت آدم جی کو بری کر دیا گیا۔

سیشن کورٹ اسلام آباد میں ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی نے نور مقدم کیس کا فیصلہ سنایا، عدالت نے گھر کے چوکیدار اور مالی کو 10،10 سال قید کی سزا سنا دی اور تھراپی ورکس کے تمام ملزمان کو بری کر دیا۔ 20 جولائی 2021 کو سابق سفیر شوکت مقدم کی ستائیس سالہ بیٹی نور مقدم کو اسلام آباد میں بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔

پولیس نے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو جائے وقوعہ سے حراست میں لے لیا تھا۔ نور مقدم کے قتل کی ایف آئی آر ان کے والد کی مدعت میں درج کی گئی، جس میں ظاہر جعفر اور دیگر کو نامزد کیا گیا۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More