دنیا میں تنازعات کا بڑاحصہ مسلم ممالک میں ہے، شاہ محمود قریشی

اسلام آباد: وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اوآئی سی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اوآئی سی 2 ارب مسلمانوں کی مشترکہ آوازہے۔

افغانستان میں جاری صورتحال دنیا کے سامنے ہے، افغانستان میں نئی حکومت ،انسانی بحران اور افغانوں کی مدد چیلنج رہا، او آئی سی کے ذریعے دنیا کی توجہ افغانستان کی جانب مبذول کرانا چاہتےہیں۔ اسلامو فوبیا کے خلاف اقوام متحدہ میں پیشر فت خوش آئند ہے ،پاکستان نےاسلام وفوبیا کے خلاف قرارداد کیلئےکردارادا کیا، یواین نے ہماری آوازپر 15مارچ کواسلاموفوبیا سےمتعلق عالمی دن مقررکیا، پاکستان نے دنیا میں ہر فورم پر اسلامو فوبیا کے خلاف آواز اٹھائی، ہم نے خطے میں امن کی بات کی اور استحکام کے لیے اقدامات کرتے رہےہیں، پاکستان او آئی سی کے کردار کو مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اکنامک ڈپلومیسی کوفروغ دیا، افغانستان کو دہائیوں چیلنجز اور مشکلات کا سامنا رہا، پاکستان نے افغانستان کے لیے نمائندہ خصوصی مقرر کیا، پاکستان نےافغانستان سے متعلق اوآئی سی خصوصی اجلاس کی میزبانی کی،افغانستان میں انسانی بحران سے بچنے کیلئے ٹرسٹ فنڈ قائم کیاگیا، آج مسلمان ممالک میں بیرونی مداخلت جاری ہے، فلسطینیوں کو ان کا حق نہیں دیا جا رہا، مسلم ممالک کومشرق وسطیٰ میں تنازعات کا سامنا ہے،تنازعات کے باعث ترقی کاعمل متاثرہوتا ہے، دنیا میں تنازعات کا بڑاحصہ مسلم ممالک میں ہے، تنازعات کےخاتمےکیلئےامہ کےدرمیان تعاون،روابط کافروغ ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فلسطین کےمسلمانوں کوان کاحق نہیں دیا جارہا، مقبوضہ کشمیراورفلسطین گزشتہ 7 دہائیوں سے قبضے کا شکارہیں، بطوررکن ملک پاکستان مسلم ممالک کےدرمیان رواداری کوفروغ دےگا، اوآئی سی مسلم امہ کےدرمیان اتحاد اوریکجہتی کیلئے کام کررہی ہے، مشرق اورمغرب کےدرمیان کشیدگی سےعالمی امن کوخطرہ ہے، دنیا میں دولت کی غیر منصفانہ تقسیم سے غربت میں اضافہ ہورہا ہے۔ مقبوضہ کشمیرمیں خونریزی جاری ہے، آرایس ایس نظریےسے متاثربھارتی حکومت کشمیرمیں ظلم ڈھارہی ہے، کشمیری حق خودارادیت کی جنگ لڑرہےہیں۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More