خورشید شاہ کے بعد اہلخانہ کیلئے ریلیف، ضمانت منسوخی کیلئے نیب اپیلیں خارج

اسلام آباد: سپریم کورٹ سے پی پی رہنما خورشید شاہ کے بعد ان کے اہلخانہ کوبھی بڑا ریلیف مل گیا، عدالت نے کیس کے تمام شریک ملزمان کی ضمانت منسوخی کیلئے دائرنیب اپیلیں خارج کردیں۔

صوبائی وزیرسندھ اویس قادرشاہ کی بھی ضمانت برقراررکھی گئی ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ مرکزی ملزم ضمانت پر ہے توشریک ملزمان کو جیل کیسے بھیج سکتےہیں، ٹھوس شواہد کے بغیرکسی پربھی کیس بنانا درست نہیں۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے نیب اپیلوں پر سماعت کی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ شریک ملزمان میں خورشید شاہ کی بیگمات، بچے اور رشتہ دار شامل ہیں، جن کی گرفتاری کی ضرورت نہیں۔ جسٹس منصورعلی شاہ کا کہنا تھا کہ خورشید شاہ کوضمانت ناقص شواہد ہونے پرملی ہے، نیب پراسیکیوٹرنے بتایاکہ ٹھیکیدارعبدالرزاق نے خورشید شاہ کو25 لاکھ کمیشن ادا کیا۔ ٹھیکیدارتفتیش میں رقم دینے کی کوئی ٹھوس وجہ نہیں بتا سکا۔

جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ کس ٹھیکے کے عوض خورشید شاہ کو25لاکھ کمیشن ملا تھا؟ ایک چیک کورشوت یا کمیشن کس بنیاد پرکہا گیا ہے؟چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ممکن ہے ٹھیکیدارنے خورشید شاہ کونذرانہ دیا ہو۔ نیب تحقیقات میں محنت کرے اور ٹرائل کورٹ میں اپنا کیس ثابت کرے۔۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More