چیئرمین رانا تنویر حسین کی زیرصدارت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس

اسلام آباد: سیکریٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ر) ہلال حسین نے پبلک اکاوئنٹس کمیٹی کو بتایا ہے کہ بھارت کرتارپور راہداری منصوبے کو ناکام کرنا چاہتا تھا، منصوبے کی تکمیل میں بہت مشکلات پیش آئیں رکن کمیٹی شاہدہ اختر علی نے کرتار پور منصوبے کا خصوصی آڈٹ کا مطالبہ کردیا۔

پارلیمنٹ کی پبلک اکاونٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین رانا تنویر حسین کی زیر صدارت ہوا ڈی جی ایف ڈبلیو او نے کرتارپورراہداری منصوبے پر بریفنگ دی۔ سیکریٹری دفاع لیفٹینٹ جنرل (ر) بلال حسین نے بتایاکہ بھارت کرتارپور راہداری منصوبے کو ناکام کرنا چاہتا تھا، اس منصوبے کی تکمیل میں بہت سی مشکلات پیش آئیں۔

ڈی جی ایف ڈبلیو او نے بتایا کہ کرتارپور منصوبہ ریکارڈ 10 ماہ میں مکمل کیا گیا جس پر 16 ارب 54 کروڑ روپے لاگت آئی۔ رکن کمیٹی شاہدہ اختر علی نے کرتار پور منصوبے کا خصوصی آڈٹ کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اتنا میگا پراجیکٹ ایک سال میں مکمل ہوا ہے تو دیگر منصوبے بھی مکمل ہو سکتے ہیں۔

وزارت دفاع کے حکام نے بتایا کہ کوئی بھی ادارہ کرتارپور منصوبے کا تکنیکی آڈٹ کر سکتا ہے جبکہ اس منصوبے کا خصوصی آڈٹ پہلے ہی ہو چکا ہے، ہم پیسہ ادھار لے کر منصوبے پر کام کرتے رہے۔ حکومتی رکن نورعالم خان نے ایف ڈبلیواو کی کاردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہاکہ ایف ڈبلیو او کا کام تو فوج کےمفادات کا خیال رکھنا ہے، فوج سے باہر کے منصوبے پر کس قانون کے تحت کام کررہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ایف ڈبلیو او کا عملہ ٹول پلازوں پر لوگوں سے بدتمیزی کرتا ہے۔ ایف ڈبلیو او نے گوادر میں جو سڑکیں بنائیں وہ خراب ہیں ٹول پلازہ پر اپنی مرضی کے مطابق ٹول ریٹ بڑھاتے ہیں میں نے کبھی ایم ون اور ایم ٹو پر کھڈا نہیں دیکھا تھا اب دونوں موٹرویز پر کھڈے بنے ہیں۔ رکن کمیٹی خواجہ آصف نے کہا کہ سیالکوٹ موٹروے بھی انتہائی ناقص بنائی گئی ہے، ڈی جی ایف ڈبلیو او اس سڑک پر خود چکر لگائیں تو پتا چل جائے گا۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More