ہماری جماعت کو خیبر پختونخوا پر خاص توجہ کی ضرورت ہے، مریم نواز

اسلام آباد: مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ عمران خان کے پاس اب بھی موقع ہے وہ مستعفیٰ ہو جائیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت 18 جنوری تک ملتوی کر دی گئی اور عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس اپیلوں میں نیب کی جانب سے التوا کی درخواست منظور کرلی۔ مسلم لیگ ن کے نائب صدر مریم نواز نے اسلام ہائی کورٹ میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج نیب نے التوا مانگا ہے اور کہا ہے کہ پراسیکیوٹر کی طبعیت ناساز ہے۔ وہ بھی وقت تھا جو روزانہ کی بنیاد پر سماعت کی استدعا کرتا تھا آج التوا مانگ رہا ہے۔

بلدیاتی انتخابات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا بلدیاتی انتخابات کا نتیجہ پی ٹی آئی کی ناقص کارکردگی ہے اور ایک وقت آئے گا پی ٹی آئی سے کوئی ٹکٹ بھی نہیں مانگے گا۔ یہ پہلی حکومت ہے جو ایک کے بعد ایک انتخاب ہار رہی ہے۔ پشاور میں ایک بی آر ٹی ہے جو چلتی کم جلتی زیادہ ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ پی ٹی آئی کو لاہور، خانیوال، پشاور اور خیبر پختونخوا کے ہر ضلع سے شرمناک شکست ہوئی تاہم عمران خان کے پاس ابھی بھی موقع ہے کہ وہ مستعفی ہوجائیں۔ مولانا فضل الرحمان کو خیبر پختونخوا میں جیت پر مبارکباد پیش کرتی ہوں۔

انہوں نے کہا کہ اپنی جماعت کو کہا ہے کہ خیبر پختونخوا پر خاص توجہ کی ضرورت ہے۔ شہباز شریف پارٹی صدر ہیں لیکن وزیر اعظم امیداوار کے فیصلے کا اختیار نواز شریف کے پاس ہیں۔ نواز شریف کی ملک واپسی سے متعلق پوچھے گئے سوال پر رہنما مسلم لیگ ن نے کہا کہ نواز شریف وطن واپسی کے لیے بےچین ہیں اور مجھ سمیت ہم سب چاہتے ہیں نواز شریف وطن آجائیں۔ پاکستان نواز شریف کا اپنا ملک ہے وہ ضرور آئیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پرویز مشر ف نے بھی کہا تھا نواز شریف تاریخ بن چکے ہیں اور پرویز مشرف نے خود دیکھا کہ نواز شریف تیسری بار وزیر اعظم منتخب ہوئے۔ پرویز مشرف کے لیے یہ سزا بڑی ہے کہ ان کو ایک آمر کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ او آئی سی اجلاس پر بات کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ او آئی سی کانفرنس افغانستان مسئلے کے لیے بلائی گئی تھی، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور وہاں پر بھارتی مظالم کی مذمت کرتے ہیں۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More