چھاپہ غلط بھی ہو تو کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں، عدالت

اسلام آباد: محسن بیگ کیس میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے ہیں کہ بے شک چھاپہ غلط طریقے سے ہوا ہو کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں۔

سینئر صحافی محسن بیگ کے خلاف درج 2مقدمات کے اخراج کی درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ پربرہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈائریکٹر سائبر کرائم کو 11بجے طلب کر لیا۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ عدالت ڈائریکٹر سائبر کرائم کیخلاف کارروائی کیوں نہ کرے؟ جمہوری معاشرے میں یہ سب ناقابل برداشت ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ پولیس کیس میں قانون کیمطابق کارروائی کیوں نہ چلنے دیں؟ بے شک چھاپہ غلط طریقے سے ہوا ہو کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں۔ ریاست کی رِٹ بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔

انہوں نے استفسار کیا کہ شکایت کنندہ اسلام آباد میں تھا تو مقدمہ لاہور میں کیوں درج ہوا؟ کیا ایف آئی اے پبلک آفس ہولڈر کی ساکھ کی حفاظت کے لیے کام کر رہا ہے؟ ایف آئی اے کا کون سا ڈائریکٹر ہے جو آئین کو مانتا ہے اورنا قانون کو؟ یہ کسی ایک فرد کا نہیں شہریوں کے حقوق کے تحفظ کا معاملہ ہے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More