منی لانڈرنگ کیس: شہباز شریف کے شریک ملزم علی احمد خان پر فرد جرم عائد

لاہور: احتساب عدالت نے آشیانہ اقبال، رمضان شوگر ملز اور منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف، حمزہ شہباز سمیت تمام ملزموں کو 10 جنوری 2022 کو دوبارہ طلب کرلیا۔ نیب نے حمزہ شہباز کی بریت کی درخواست پر جواب جمع کروا دیا۔

آمدن سے زائد اثاثہ جات اور منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف سمیت منی لانڈرنگ ریفرنس کے دیگر ملزمان احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔ دوران سماعت شہباز شریف کے شریک ملزم علی احمد پر فرد جرم عائد کی گئی۔ احتساب عدالت کے جج نسیم احمد وِرک نے حمزہ شہباز کی ایک روزہ حاضری معافی کی درخواست منظور کرتے ہوئے تمام ملزموں کو 10 جنوری 2022 کو دوبارہ طلب کرلیا۔

احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہبازشریف نے کہا کہ میڈیا افغانستان کی عوام کیلئے خوراک اور ادویات نہیں ہیں، عالم اسلام سمیت پوری دنیا کا فرض بنتا ہے کہ افغان عوام کی مدد کرے۔ دوسری جانب احتساب عدالت کے جج محمد ساجد علی اعوان نے آشیانہ اقبال اور رمضان شوگر ملز کیس پر سماعت کی۔ نیب نے حمزہ شہباز، امتیاز حیدر اور بلال قدوائی کی بریت کی درخواستوں پر جواب جمع کروا دیا۔

نیب نے اپنے جواب میں حمزہ شہباز کی بریت کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کو نئے ترمیمی آرڈیننس میں بھی نہیں چھیڑا گیا۔ نیب آرڈیننس کرپشن کے خاتمے کیلئے بنایا گیا ہے۔ وائٹ کالر کرائم پیچیدہ اور مشکل ہوتا ہے اس لئے کیس کو مجموعی طور پر دیکھا جانا چاہیے جبکہ کیس کے تمام پہلو جرم کو ثابت کرتے ہیں لہذا حمزہ شہباز کی بریت کی درخواست خارج کی جائے۔ عدالت نے حمزہ شہباز کی حاضری معافی کی درخواست منظور کرتے ہوئے بریت کی درخواست پر وکلا کو بحث کیلئے طلب کرلیا۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More