رانا شمیم نے تاثر دیا کہ ہائیکورٹ کے تمام ججز سمجھوتہ کرنے والے ہیں، عدالت

اسلام آباد: ہائیکورٹ میں رانا شمیم توہین عدالت کیس کی سماعت میں چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیے کہ رانا شمیم نے تاثر دیا کہ ہائیکورٹ کےتمام ججز سمجھوتہ کرنے والے ہیں، بادی النظر میں رانا شمیم نے بغیر شواہد بہت بڑا بیان دیدیا۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہرمن اللہ نے کیس کی سماعت کی۔ رانا شمیم کے وکیل لطیف آفریدی نے عدالت کو بتایا کہ بیان حلفی عدالت میں جمع کرادیا گیا ہے اور ان کے موکل رانا شمیم پہلےدن والے بیان پرقائم ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ لفافہ سربمہر اسی حالت میں موجود ہے، ابھی تک نہیں کھولا، اگرچاہیں توکھول سکتےہیں۔

جسٹس اطہرمن اللہ نے مزیدکہا کہ رانا شمیم نےاسلام آباد ہائیکورٹ کےتمام ججزکومشکوک کردیا ہے، عدالت واضح کرچکی کہ تنقید سےکوئی گھبراہٹ نہیں ہے، یہ اوپن انکوائری ہے، یہ ہمارا احتساب ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ رانا شمیم نے یہ بھی تاثردیا کہ استحقاقی دستاویز نوٹری پبلک سے لیک ہوا ہوگا، ایسا ہے تو کیا برطانیہ میں ان کےخلاف کوئی کارروائی کی گئی؟۔

اظہاررائے کی آزادی پرتوہین عدالت نہ لگنے کے موقف پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آئین کا آرٹیکل 19 دیکھ کر ہی آگے بڑھیں گے، جہاں بنیادی حقوق کا معاملہ آئے، اظہار رائے کا استثنیٰ ختم ہوجاتا ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اس عدالت پر عوام کے اعتبار کو توڑنا عوام کے بنیادی حقوق سے جڑا ہے، ابھی ہم نے فرد جرم عائد کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ نہیں کیا، یہ اوپن انکوائری ہے اور ہم پر سوالات اٹھائے گئے ہیں، ہمیں مطمئن کرپائے کہ توہین عدالت نہیں ہوئی تو کیس ڈسچارج کردیں گے، اخبار میں چھپنا ثانوی ہے، رانا شمیم مانتے ہیں کہ جو چھپا وہی ہے جو اصلی ہے۔

عدالت نے رانا شمیم کا بیان حلفی آئندہ سماعت تک سربمہر ہی رکھنے کا فیصلہ کیا اور اسے آئندہ سماعت پر اٹارنی جنرل کی موجودگی میں ہی کھولا جائے گا۔کیس کی سماعت 28 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More