شہباز گل کیلیے غیر جانبدار میڈیکل بورڈ بنانے کی درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ


 اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے شہباز گل پر تشدد کے خلاف اور طبی معائنہ کے لیے غیر جانبدار ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل بورڈ بنانے کی درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے دلائل مکمل ہونے پر درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا، اسد عمر کی دائر کردہ درخواست پر ڈاکٹر بابر اعوان عدالت میں پیش ہوئے۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ ایک میڈیکل رپورٹ بھی ہے تو کیا میڈیکل بورڈ نہیں ہے؟ ایک اور درخواست پر قائم مقام چیف جسٹس نے آئی جی کو نوٹس کیا تھا اور وہ پیش بھی ہوئے، اب آپ یہاں ایک اور درخواست میں میڈیکل بورڈ بنانے کی بات کر رہے ہیں۔

بابر اعوان نے عدالت کو جواب دیا کہ ہم غیر جانبدار ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل بورڈ چاہتے ہیں۔ بابر اعوان نے گزشتہ روز کے شہباز گل کیس کے ہائی کورٹ کا تحریری فیصلہ عدالت کو پڑھ کر سنایا۔

انہوں نے موقف اپنایا کہ میڈیکل بورڈ میں جو ڈاکٹرز موجود ہیں ان کی کچھ بیماریوں میں ایکسپرٹیز ہی نہیں، ڈاکٹر کوئی بھی ہو مگر ایک پرائیویٹ میڈیکل بورڈ بنایا جائے جس میں چاروں صوبوں سے ڈاکٹرز ہوں۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ اگر ہم اس معاملے کو سیکریٹری داخلہ پر چھوڑ دیں تو بہتر نہیں ہوگا؟ بابر اعوان نے جواب دیا کہ غیر جانبدار پرائیویٹ ڈاکٹرز پر مشتمل میڈیکل بورڈ چاہتے ہیں سرکاری ڈاکٹروں کا نہیں، عدالت شہباز گل کی زندگی اور بنیادی حقوق کی تحفظ یقینی بنانے کے لیے اقدامات کریں۔

بابر اعوان نے دلائل دیے کہ شہباز گل کو گرفتاری کے بعد جب مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا تو تشدد کے نشانات تھے، شہباز گل نے پولیس تشدد کے نشانات جوڈیشل مجسٹریٹ کو دکھائے اور جوڈیشل مجسٹریٹ نے دو روزہ جسمانی ریمانڈ کے بعد جوڈیشل ریمانڈ کر دیا۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی حکومت نے جوڈیشل مجسٹریٹ کے فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل دائر کر دی جو مسترد ہوگئی اس کے بعد وفاقی حکومت نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا جو عدالت نے میرٹ پر فیصلہ کرنے کا حکم دیا، شہباز گل کو دوبارہ دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر دے دیا گیا۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ موجودہ میڈیکل بورڈ کیسے تشکیل دیا گیا؟ بابر اعوان نے بتایا کہ موجودہ میڈیکل بورڈ خاتون جج کی ہدایت پر بنایا گیا، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ میں اس پر آرڈر پاس کروں گا۔

بابر اعوان نے موقف دیا کہ غداری کا بھی مقدمہ ہو اس میں ٹارچر یا مخصوص اعضاء پر مارنے کی اجازت نہیں، آئینی اور بنیادی طور پر جو بھی مقدمہ ہو آپ کسی کو ہاتھ نہیں لگا سکتے، یونیورسٹی کے پروفیسر پر تشدد کیا جا رہا ہے کہ آپ قبول کریں کہ کس کے کہنے پر آپ نے جرم کیا۔

دلائل کے بعد شہباز گل کے میڈیکل بورڈ بنانے کی درخواست کے قابل سماعت ہونے پر عدلات نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More