مریخ کے بعد ایک اور سیارے کی کھوج کا سفر

نیو ریارک : امریکی خلائی ادارے ناسا نے نظام شمسی کے فوصل کی دریافت کے لیے مریخ کے بعد مشتری یعنی جوپیٹر کی کھوج شروع کر دی ہے، جس کے لیے انہوں نے اپنا مشن روانہ کر دیا ہے۔

مشن کو لوسی کا نام دیا گیا ہے، اگلے 12 برس میں اس مشن پر 981 ملین امریکی ڈالر خرچ کیے جائیں گے۔ اس دوران لوسی مشن سات ٹروجنز کی جانچ اور ان کا مطالعہ کرے گا۔ 1974 میں ایتھوپیا میں دنیا کا قدیم ترین ڈھانچہ دریافت ہوا تھا ، جسے لوسی کا نام دیا گیا ، لوسی نامی اس ڈھانچے کی دریافت نے انسان کی ابتدا اور ارتقا کے متعلق نظریات کو بدل کر رکھ دیا۔

مشتری پر ٹروجن کی چھان بین کے لیے ناسا نے اپنے مشن کا نام اسی اولین انسانی ڈھانچے کے نام پر رکھا ہے۔ ریکی خلائی ایجنسی کے سائنسدانوں کے مطابق مشن سے سب سے بڑے سیارے کے مدار میں گیس کے بڑے ٹکڑے کے آگے اور پیچھے جو سیارچوں کا ایک غول ہے اس کا دو گروپس میں مطالعہ کیا جائے گا۔

ان کا ماننا ہے کہ یہ چیزیں اس سیارے کی تشکیل کے دوران بچ گئی تھیں اور نظام شمسی کی ابتدا کے بارے میں اہم معلومات ان باقیات میں چھپی ہو سکتی ہیں۔ ناسا کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے یہ بھی پتہ چل سکتا ہے کہ ہمارے نظام شمسی میں سیاروں کی موجودہ پوزیشن کے پیچھے کیا عوامل کار فرما ہیں۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More