سپریم کورٹ: سندھ بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کیلئے حلقہ بندیوں کے خلاف ایم کیو ایم کی درخواست مسترد

کراچی: سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کیلئے حلقہ بندیوں کیخلاف متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی درخواست سپریم کورٹ نے خارج کردی۔

سندھ بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں حلقہ بندیوں کیخلاف سپریم کورٹ نے ایم کیو ایم کی درخواست خارج کرتے ہوئے حکم جاری کیا کہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کیلئے پولنگ اٹھائیس اگست کو ہی ہوگی۔ چیف جسٹس عمر عطابندیال نے ریمارکس دیئے کہ بلدیاتی انتخابات کسی صورت ملتوی نہیں کریں گے، ایم کیو ایم پہلے مناسب فورم سے رجوع کرے، حقائق کا تعین ہونے پر ہی قانونی نکات عدالتوں میں اٹھائے جا سکتے ہیں جو نکات ہائیکورٹ میں نہیں اٹھائے گئے انہیں اپیل میں براہ راست نہیں سنا جا سکتا ہے، سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کی یکم فروری 2022 کے سندھ بلدیاتی انتخابات سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کی درخواست بھی خارج کردی۔

عدالت نے کہا تحریک انصاف چاہے تو فیصلے پر عملدرآمد کیلئے الگ درخواست دائر کر سکتی ہے، موجودہ کیس میں فیصلے پر عملدرآمد کا جائزہ نہیں لیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے کہا تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نے بلدیاتی انتخابات کروانے کی حمایت کی ہے۔ عدالت نے الیکشن کمیشن اور متعلقہ حکام کو رکن قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا کے حلقہ سے متعلق تحفظات دیکھنے کی ہدایت کی۔

چیف جسٹس پاکستان نے دوران سماعت الیکشن کمیشن کی تعریف کرتے ہوئے کہا الیکشن کمیشن نے بڑی محنت سے کام کیا ہے اور اسی طرح دن رات کام کر کے حلقہ بندیاں مکمل کیں، الیکشن کمیشن نے پنجاب کے بیس حلقوں کا ضمنی الیکشن پرامن کروایا، بہتر ہو گا کہ ایم کیو ایم یہ جنگ متعلقہ فورم پر لڑے، یہ امید نہ رکھیں کہ آئینی معاملے پر عدالت یونہی فیصلہ دے گی۔

سپریم کورٹ میں ایم کیو ایم کے وکیل فروغ نسیم، منتخب بلدیاتی نمائندوں کے وکیل خالد جاوید خان ، وکیل پی ٹی آئی بیرسٹر صلاح الدین، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور الیکشن کمیشن حکام نے دلائل دیئے جبکہ امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان اور ممبر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا نے بھی عدالت کے سامنے اپنا موقف پیش کیا۔ حافظ نعیم الرحمن نے عدالت سے استدعا کی کہ بلدیاتی انتخابات پہلے ہی اڑھائی سال تاخیر کا شکار ہیں، عدالت سے درخواست ہے کہ انتخابات ملتوی نہ کیئے جائیں، مردم شماری اور ووٹر لسٹوں پر اعتراضات ہیں، مردم شماری کیخلاف صوبائی حکومت بھی مجاز فورم پر اعتراض کر چکی ہے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More