یوکرین روس کے خلاف جنگ جیت سکتا ہے:نیٹو سربراہ

ویب ڈیسک: یوکرین کے خلاف روس کی جنگ کے تیسرے مہینے میں، ملک کے مشرق اور جنوب میں لڑائی جاری ہے، جس میں پیوٹن کی افواج اہم پیش رفت کرنے میں جدوجہد کر رہی ہیں۔

نیٹو کے سربراہ سٹولٹن برگ کا کہنا ہے کہ ماسکو کی جارحیت ناکام ہو رہی ہے، یوکرین، روس کے خلاف یہ جنگ جیت سکتا ہے۔ برلن میں نیٹو کے سفارت کاروں کی ملاقات کے دوران بات کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین کو مزید مدد فراہم کرنے پر بات چیت کر رہے ہیں۔ سٹولٹن برگ نے بتایا کہ فن لینڈ اور سویڈن کو رکنیت دینے اور ان کی الحاق کی درخواست کے دوران سکیورٹی ضمانتیں مہیا کرنے پرغورکرے گا۔

انہوں نے کہا کہ یوکرین میں روس کی جنگ اس طرح نہیں چل رہی جیسا کہ ماسکو نے منصوبہ بنایا تھا۔ دوسری جانب پولینڈ کے نوبل انعام یافتہ مصنف نے روس کو “آزاد دنیا” کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمسایہ ملک یوکرین پر اس کا حملہ دوسری جنگ عظیم کی بازگشت ہے۔ یوکرین کے صدر نے ایک بار پھر روس کے خلاف پابندیوں کو مضبوط کرنے کی ضرورت کی طرف اشارہ کیا ہے، خاص طور پر یورپی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ ماسکو کی تیل کی درآمدات پر پابندی لگائیں۔

بلومبرگ نے سرکاری حکام کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ جرمنی سال کے آخر تک روسی تیل کی درآمد بند کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، یہاں تک کہ اگر یورپی یونین اپنی پابندیوں کے اگلے سیٹ میں پابندی پر متفق ہونے میں ناکام ہو جاتی ہے جبکہ واشنگٹن کے اعلیٰ سفارت کار نے کہا ہے کہ کیف میں امریکی سفارت خانہ “بہت جلد” دوبارہ کام شروع کر دے گا۔ واضح رہے روس کے حملے کے بعد سے امریکی سفارتخانہ پولینڈ سے کام کر رہا تھا۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More