ایکواڈور کی جیل میں فسادات،68 قیدی ہلاک ہوگئے

ایکواڈور: جیل میں ایک بار پھر خطرناک تصادم 68قیدیوں کی جان لے گیا۔

ایکواڈور کی شہر گویا کیل کی جیل میں مختلف جرائم پیشہ گروہوں میں ہونے والا تصادم رات بھر جاری رہا۔ قیدیوں نے ایک دوسرے پر ڈنڈوں،لوہے کے راڈزاور تیز دھار اشیا سے وار کیے۔ پولیس اور انتظامیہ حالات کو قابو نہ کر سکے اور اس خونی تصادم میں 68قیدی ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔

حکام کا کہنا ہے قیدیوں نے بجلی کی معطلی کا فائدہ اٹھا کر ایک دوسرے پر حملہ کیا اور اندھیرے کے باعث پولیس کے حالات قابو کرنا مشکل ہوا۔ رپورٹس کے مطابق، پولیس جب جیل میں داخل ہوئی تو انہیں وہاں سے بندوقیں، دھماکہ خیز مواد اور بلیڈ ملے۔

ملک کی جیلوں میں اس سال اب تک تقریباً 300 قیدی ہلاک ہو چکے ہیں، اور ستمبر جیلوں میں تشدد کے معاملے میں ایکواڈور کی تاریخ کا بدترین مہینہ تھا۔ 28ستمبر کو تقریباً 119قیدی جیل میں ہونے والے فسادات کے دوران ہاتھ سے جان گنوا بیٹھے تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ جیل میں موجود مختلف جرائم پیشہ گروہوں کے درمیان جیل کی سربراہی کے لیے لڑائی ہو رہی ہے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More