شاہد خاقان عباسی کیخلاف ایل این جی ریفرنس، گواہان پر جرح مکمل نہ ہوسکی

اسلام آباد: احتساب عدالت کے جج محمد اعظم خان کی عدالت نے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے خلاف ایل این جی ریفرنس میں گواہان پر جرح مکمل نہ ہوسکی۔

احتساب عدالت اسلام آباد کے جج محمد اعظم خان نے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور دیگر ملزمان کیخلاف ایل این جی ریفرنس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی عدالت میں پیش ہوئے۔ دوران سماعت وکیل صفائی ڈاکٹر یاسر امان نے کہاکہ نیب کی جانب سے جاری گائیڈ لائن پر تفصیلی جواب مانگا گیا لیکن جواب نہیں دیا گیا۔ عدالت کے حکم پر جواب کا نہ آنا توہین عدالت کا معاملہ بنتا ہے۔

نیب پراسیکیوٹر عثمان مرزا نے کہاکہ نیب ہیڈ کوارٹر یا ہائیکورٹ کی جانب سے کوئی ہدایات نہیں ہیں، عدالت نے خط لکھا چیئرمین نیب کو اس پر پراسس چل رہا ہے، نیب ترامیم کے بعد کیسز کو آگے بڑھانے کے لیے نئی ہدایات کا انتظار ہے۔ وکیل صفائی نے موقف اپنایا کہ نیب حکام تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہاکہ یہ نیب کا اندرونی معاملہ ہے، وکلاء مداخلت نہیں کرسکتے۔ احتساب عدالت کے پاس بھی کوئی اختیار نہیں کہ نیب کی اندرونی فائلیں دیکھ سکے۔ پراسیکیوٹر نے کہاکہ یہ خط براہ راست عدالت نے چیئرمین نیب کو لکھا، اس خط کا وہ ہی جواب دینگے، اگر جواب نہیں آیا تو عدالت دوبارہ چیئرمین نیب کو خط لکھ سکتی ہے۔ ملزمان کے وکلا کو کارروائی چلانے پر اعتراض ہے تو عدالت کو درخواست دیں۔

عدالت میں موجود نیب کے دو گواہان فرحان عمر اور سید عاصم علی ترمذی میں سے نیب گواہ فرحان عمر پر ریفرنس کے شریک ملزم عمران الحق کے وکیل نے جرح کی جو مکمل نہ ہو سکی۔ عدالت نے سماعت 21 دسمبر تک کیلئے ملتوی کردی۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More