پنجاب حکومت کا نئے بلدیاتی نظام پر اپوزیشن کے تحفظات دور کرنے کا اعلان

لاہور: پنجاب حکومت نے نئے بلدیاتی نظام پر اپوزیشن کے تحفظات دور کرنے کا اعلان کردیا۔ وزیر بلدیات میاں محمودالرشید کہتے ہیں کہ بااختیار بلدیاتی نظام کے تحت دو ہزار 285 نیبر ہڈ کونسلز قائم کی جائینگی، ہیلتھ سوشل ویلفئیر اور اسپورٹس سمیت پانچ اتھارٹیز ضلع کے ماتحت ہونگی جبکہ تمام اتحادی آن بورڈ ہیں اپوزیشن کے تحفضات بھی دور کیے جائینگے۔

وزیر بلدیات پنجاب میاں محمود الرشید نے صوبے میں بلدیاتی انتخابات الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے کروانے کا عندیہ دے دیا۔ الحمرا ہال لاہور میں ترجمان پنجاب حکومت حسان خاور کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے میاں محمود الرشید بولے کہ گیارہ میٹرو پولیٹن کارپوریشن اور پچیس ڈسٹرکٹ کونسلز سے براہ راست عوامی نمائندے عوام کا ووٹ لے کر منتخب ہونگے، کوشش ہے آئندہ انتخابات ای وی ایم کے ذریعے کروائے جائیں گے۔

بلدیاتی ایکٹ پر بریفنگ دیتے ہوئے حسان خاور کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ بلدیاتی نظام کے ذریعے عوام کے مسائل انکی دہلیز پر حل کیے جائینگے، دیگر صوبائی حکومتوں کے قوانین سے موازنہ کریں تو پتہ چل جائے گا جمہوریت کا سب سے بڑا حامی کون ہے۔

وزیر بلدیات پنجاب کا کہنا تھا کہ نئے بلدیاتی نظام میں نہ صرف بلدیاتی نمائندوں بلکہ تاجر برادری، سول سوسائٹی اور خصوصی افراد کی نمائندگی بھی ہوگی جبکہ شکایات کے ازالے کیلئے خصوصی ٹربیونل بھی بنایا جائیگا۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More