جگہ جگہ غیرقانونی سوسائٹیز بن رہی ہیں مگر کوئی پوچھنے والا نہیں، عدالت

لاہور: ہائیکورٹ نے راوی اربن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کیس میں اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ جگہ جگہ غیرقانونی سوسائٹیز بن رہی ہیں مگر کوئی پوچھنے والا نہیں، حکومت کہاں ہے اور کیا کررہی ہے؟ اچھی بات ہے کہ حکومت کو خیال آیا کہ ایک ترتیب سے شہر بنایا جائے مگر روڈا پراجیکٹ سے پہلے شہر سے آلودگی کا خاتمہ کرنا چاہیے۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے راوی اربن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔ دوران سماعت راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دئیے کہ دنیا بھر میں بلدیاتی ادارے ماسٹر پلان کے پابند ہوتے ہیں مگر پاکستان میں بلدیاتی ادارے خود ہی ماسٹر ہوتے ہیں، بلدیاتی ادارے جو چاہیں ماسٹر پلان میں تبدیلی کرسکتے ہیں۔

جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دئیے کہ حکومت کیا کر رہی ہے؟ پہلے اس بے ترتیب تعمیرات کے خلاف تو کارروائی کرے، لاہور اسوقت آلودہ ترین شہر بن چکا، سارے شہری تو نئے لاہور میں منتقل نہیں ہوسکتے، ایسے معاملات میں نہ صرف عدالتوں کو آنا پڑتا ہے بلکہ بعض اوقات اپنے دائرہ اختیار سے باہر بھی حکم جاری کرنا پڑتا ہے، اچھی بات ہے کہ حکومت کو یہ خیال آیا کہ ایک ترتیب سے شہر بنایا جائے مگر نیا پراجیکٹ بنانے سے پہلے حکومت قانونی تقاضے تو مکمل کرے۔

عدالت نے ریمارکس دئیے کہ جگہ جگہ غیرقانونی سوسائٹیز بن رہی ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں، اسموگ کا کیس میں ہفتے میں دو بار سنتا ہوں تاکہ یہ مسئلہ حل ہوسکے۔ بیرسٹر علی ظفر نے مؤقف اپنایا کہ بطور سینیٹر ساتھی سینیٹرز کے ساتھ ملکر قانون سازی کیلئے پرائیویٹ بل سینیٹ میں پیش کروائیں گے۔ عدالت نے سماعت 17 دسمبر تک ملتوی کردی۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More