ہم امریکا کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں

اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان کا او آئی سی کی وزرائے خارجہ کونسل کے افغانستان پر غیرمعمولی اجلاس کی میزبانی کرنا اس قائدانہ کردار کے مطابق ہے جو پاکستان نے خطے میں ادا کیا ہے۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے تبدیل ہوتے جیوپولیٹیکل منظر نامے میں مستقبل کی خارجہ پالیسی کے مسائل کے عنوان پر مارگلہ ڈائیلاگ فورم2021 سے خطاب میں کہا ہم امریکا کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، مستقبل کی طرف دیکھتے ہوئے ہم امریکا کے ساتھ سودے بازی والے تعلقات نہیں چاہتے، وزیراعظم عمران خان کے وژن کی روشنی میں جیوپالیٹیکس سے جیواکنامکس کی طرف تبدیلی سے ہم امریکا کے ساتھ ایسے تعلقات چاہتے ہیں جو ہماری تبدیل شدہ ترجیحات سے ہم آہنگ ہوں۔

افغانستان کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ کا کہنا تھا اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے، افغانستان میں انسانی بحران کی انتہائی سنگین صورتحال درپیش ہے جس کے نتائج کا سامنا نہ صرف افغانستان کے عوام کو ہے بلکہ ہمسایہ ممالک کے طور پر ہمیں، خطے اور دنیا کو بھی یقینی طور پر کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ افغان حکومت نے اپنے تمام ہمسایوں کو یقین دلایا ہے کہ ان کی سرزمین دہشت گردی کیلئے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی، یہی پیغام کابل نے تمام خطے کے باہر کی قوتوں کو بھی دیا ہے۔

وزیر خارجہ نے بھارت کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے کہا بھارت کے بارے میں بات کیے بغیر خارجہ پالیسی مسائل کے بارے میں بات مکمل نہیں ہوتی،اقتدار سنبھالتے ہی ہماری حکومت نے یکطرفہ طور پر بار بار کوشش کی تاکہ بات چیت کے ذرائع کُھلیں، ہمارے مشرقی ہمسایہ نے ہر قسم کی بات چیت کیلئے تمام دروازے بند کرنے کا انتخاب کیا۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More