بلوچستان میں موسلا دھار بارش نے پھر تباہی مچادی

کوئٹہ: بلوچستان میں موسلا دھار بارش نے پھر تباہی مچادی۔ قلعہ عبداللہ میں 3 ڈیم ٹوٹ گئے۔ لسبیلہ میں سندھ اور بلوچستان کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔

حب میں موسلادھار بارش سے جھل تھل ایک ہو گیا۔ طوفانی بارش سے شہری بھی خوفزدہ ہو گئے ۔ لسبیلہ میں لنڈا ندی میں طغیانی آ گئی ۔ سیلابی ریلے میں متبادل راستہ بھی بہہ گیا ۔ قومی شاہراہ پھر بلاک ہو گئی ۔سندھ اور بلوچستان کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ۔ روڑی ندی میں طغیانی سے وسیع اراضی پر کھڑی فصلیں سیلاب کی نذر ہو گئیں۔ متعدد گاؤں کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا۔

سبی اور ہرنائی میں بھی بادل برسے۔ سیلابی ریلے کے باعث ہرنائی کوئٹہ قومی شاہراہ عارضی طور پر بند ہو گئی۔ جھل مگسی میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا زمینی رابطہ تاحال منقطع ہے۔ لسبیلہ کنراج کے علاقے باکھڑا ندی میں گاڑی سیلابی ریلے میں بہہ گئی۔ قلعہ عبداللہ میں بارش اور سیلاب کے باعث تین ڈیم ٹوٹ گئے۔سیلابی پانی ضلع کے مختلف علاقوں سے گزررہا ہے۔

ضلع بھرکے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔ ڈی سی قلعہ عبداللہ کے مطابق3ہزارافراد محفوظ مقامات منتقل ہوچکے ہیں،سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے3 افراد کی لاشیں نکالی جاچکی ہیں،۔کچھ لوگ تاحال لاپتہ ہیں۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق بلوچستان میں گزشتہ شب بارشوں اور سیلاب سے مزید 3افراد جاں بحق ہوئے ۔سیلاب سے قلعہ سیف اللہ، بولان ،کوئٹہ ،ژوب ،دکی ،خضدار میں اموات ہوئیں۔ بلوچستان میں سیلاب اور بارشوں سے متبادل سڑکیں اور شاہرائیں بھی بہہ گئیں۔

شیرانی ،سبی ،ڈیرہ بگٹی اور قلات میں سیلا بی صورتحال کا الرٹ جاری کر دیا گیا۔تربت ،خاران ،لسبیلہ ،آواران ،پنجگور ،ہرنائی اور سوراب میں بھی سیلاب کا خدشہ ہے۔ اعدادو شمار کے مطابق بلوچستا ن میں بارشوں اور سیلاب سے 16پل ٹوٹ چکے ہیں۔ 23ہزار13مویشی ہلاک ہوئے ہیں۔ قلعہ سیف اللہ اورمسلم باغ میں 100گھر،پل اور درخت ریلے میں بہہ گئے۔سیلاب سے 2لاکھ سے زائد ایکڑ زمین پر فصلوں کو نقصان پہنچا۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More