لانگ مارچ میں توڑ پھوڑ ، شاہ محمود قریشی سمیت 38 ملزمان کی عبوری ضمانت میں توسیع

اسلام آباد: سیشن کورٹ اسلام آباد میں پی ٹی آئی لانگ مارچ کے دوران توڑ پھوڑ کیس کی سماعت ہوئی، شاہ محمود قریشی، اسد عمر اور شیخ رشید سمیت 38 ملزمان کی عبوری ضمانت میں 20 جون تک توسیع کر دی گئی۔

جج نے پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ مقدمات کی تفتیش مکمل ہو چکی ہے؟ پراسیکیوٹر واجد منیر نے جواب دیا کہ ابھی تک تفتیش مکمل نہیں ہوئی، جج نے کہا کہ کتنے لوگ ابھی تک شامل تفتیش نہیں ہوئے؟ پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ بہت لوگوں نے تفتیش جوائن نہیں کی۔ تحریک انصاف کے وکیل بابر اعوان نے کہا کہ ہمارے رہنما تھانوں میں گئے لیکن جواب ملا صاحب موجود نہیں، جج نے کہا کہ ہم تھانہ وائز درخواست ضمانتوں پر بحث رکھ لیتے ہیں۔

بابر اعوان نے جواب دیا کہ جسطرح چل رہا ہے اسی طرح جانے دیں، ہم آپ کو مایوس نہیں کرینگے، سب ملزمان پیش ہونگے۔ جج نے کہا کہ تمام ملزمان کو شامل تفتیش کروا لیں اور انکی حاضری بھی لگوا لیں، یہ شکایت کر رہے ہیں کہ تھانوں میں جاتے ہیں،، عدالت نے پراسیکیوٹر کو سب کو شامل تفتیش کرنے کی ہدایت دے دی۔

شیریں مزاری نے عدالت سے استدعا کی کہ میں کچھ کہنا چاہتی ہوں، میں شامل تفتیش ہو چکی ہوں اور آج وکیل بحث کرینگے۔ جج نے شیریں مزاری کو جواب دیا کہ ہم نے منگل کی تاریخ رکھ لی ہے اس دن بحث کر لینگے، شیریں مزاری نے کہا کہ مجھے پھر حاضری سے استثنی ٰدیدیا جائے۔

جج نے کہا کہ آئندہ سماعت پر بحث کے لیے صرف 2وکیل ہی پیش ہوں، کمرہ عدالت میں ملزمان سے زیادہ وکلا کی تعداد ہے، شیریں مزاری، زرتاج گل اور عمران اسماعیل کی حاضری نے استثنٰی کی درخواستیں دیں، سیشن کورٹ اسلام آباد نے شاہ محمود قریشی، اسد عمر اور شیخ رشید سمیت 38 ملزمان کی عبوری ضمانت میں 20 جون تک توسیع کر دی

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More