فرانس: یہود مخالف بیان کا الزام لگا کر مسجد بند کر دی گئی

پیرس: فرانس میں یہود مخالف بیان کا الزام لگا کر مسجد کو بند کر دیا گیا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق فرانس کے شہر کین میں مسجد کو بند کیا گیا۔ فرانسیسی وزیر داخلہ جیرالڈ ڈرمینن نے مسجد کی بندش پر کہا کہ کین کی مسجد نے یہود مخالف بیانات دینے کے علاوہ حکومت کی جانب سے کالعدم کی گئی دو تنظیموں کی حمایت کی خلاف ورزی بھی کی ہے۔ پیرس کے شمالی علاقے کین میں 2 ہفتے قبل امام مسجد کے خطبے کو بنیاد پرست قرار دے کر مسجد کو 6 ماہ کے لیے بند کر دیا گیا۔

سال 2020 میں فرانس کے ایک اسکول میں طالب علموں کے سامنے گستاخانہ خاکے دکھانے والے استاد کا سر قلم کردیا گیا تھا جس کے بعد فرانسیسی صدر نے اس واقعے اور اسی سے متعلق دیگر حملوں کے خلاف فرانسیسی سیکولرازم کی کھل کر حمایت کی اور متنازع بیانات بھی دیے تھے۔

اس وقت فرانس میں مساجد کے خلاف کریک ڈاؤن اور تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے اور بنیاد پرستی پھیلانےکے الزام میں متعدد مساجد کو بند کیا گیا ہے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More