وزیر اعلیٰ پنجاب کا انتخاب، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب سے متعلق درخواست پر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔

لاہور ہائی کورٹ میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی۔ سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمد خان بھٹی لاہور ہائی کورٹ میں موجود تھے۔ اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہٰی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ معاملہ پارلیمنٹ کا ہےعدلیہ کو پارلیمانی معاملے میں مداخلت کا اختیار نہیں، اسمبلی اجلاس کی تاریخ 16 اپریل مقرر ہے درخواست مسترد کی جائے۔

وکیل علی ظفر نے کہا کہ میری استدعا ہے پنجاب اسمبلی رولز موجود ہیں اور جو رولز میں ہے وہی پورسیجر میں ہے کہ ہاؤس کو کس طرح چلانا ہے، سپریم کورٹ فیصلہ دے چکی ہے کہ اسپیکر کی پروسیڈنگ پارلیمنٹ کا معاملہ ہے، سپریم کورٹ نے کہا کہ آرٹیکل 69 کے تحت مداخلت نہیں کر سکتی ہے۔ پرویز الہٰی کے وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ، ہائی کورٹس میں متعدد درخواستیں آئیں لیکن ان کی شنوائی نہیں ہوئی۔ حالیہ اسپیکر سینیٹ صادق سنجرانی کا معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں گیا، معاملہ اٹھایا گیا کہ 7 ووٹ مسترد ہوئے ہیں، عدالت نے قرار دیا کہ اگر آئین کی خلاف ورزی ہوئی تو عدالت دیکھ سکتی ہے لیکن اگر رولز اور پروسیچرل معاملہ ہے تو آرٹیکل 69 کے تحت مداخلت نہیں ہوسکتی ۔

انہوں نے کہا کہ ‏اسمبلی اجلاس کب بلانا ہے کب ملتوی کرنا ہے عدالتوں کو ان معاملات میں مداخلت کا اختیار نہیں، یہ ایسے ہی ہے کہ صوبائی اسمبلی عدالت سے کیسز کے التوا کے بارے میں پوچھنا شروع کر دے۔ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ یہ قانون نہیں پروسیجرل ایشو ہے، جب پہلے سے ہی طے ہے کہ 16 اپریل کو اجلاس ہونا ہے تو پھر اتنی جلدی کیا ہے؟ ایک یا دو دن پہلے تاریخ تبدیل کرنے سے نتائج متنازعہ ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن شیڈول کے مطابق 5 بجے سے پہلے کاغذات نامزدگی جمع کروانے ہیں اور کہیں نہیں کہا گیا کہ الیکشن کے دن کاغذات جمع کروانے ہیں یا کہیں نہیں لکھا کہ جس دن کاغذات نامزدگی جمع ہوں گے اگلے دن الیکشن ہوں گے۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے کہا کہ اگر ایسا ہوتا تو کم از کم لکھا جاتا لیکن یہ تو کہیں نہیں لکھا، اب آپ کا اگلا پوائنٹ ہے کہ اگلے دن الیکشن ہوا اور ملتوی کردیا گیا۔ وکیل سیکرٹری پنجاب اسمبلی نے کہا کہ سیشن ملتوی ہو سکتا ہے لیکن ختم نہیں ہوسکتا۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ امیر بھٹی نے کہا کہ اسپیکر کا متبادل ڈپٹی اسپیکر ہے اور ڈپٹی اسپیکر کا متبادل پینل آف چیئرمین ہے، ڈپٹی اسپیکر کا متبادل اس صورت میں ہے جب وہ غیر حاضر ہو۔

وکیل سیکرٹری پنجاب اسمبلی نے کہا کہ ایسا کہیں نہیں لکھا کہ غیر حاضر ہونا ضروری ہے۔ ڈپٹی اسپیکر بطور پریذائیڈنگ افسر وزیر اعلیٰ پنجاب کا انتخاب نہیں کروا سکتا۔ ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ مشرقی پاکستان میں 1958 میں ایسی صورتحال بنی تھی،مشرقی پاکستان میں چھوٹی سی بات سے بات بڑھتی گئی اور اسپیکر کو قتل کر دیا گیا حالات خراب ہوئے تو مشرقی پاکستان میں مارشل لا لگایا دیا گیا۔ وکیل ق لیگ نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر پر اعتماد نہیں ہے وہ صاف الیکشن نہیں کروا سکتے اور ڈپٹی اسپیکر نے ابھی سے سیکرٹری پنجاب اسمبلی پر پابندیاں عائد کرنا شروع کردی ہیں۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے سوال کیا کہ پھر ایسی صورتحال میں کیا کیا جائے؟ اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی پینل آف ہاؤس کو سیشن چلانے دیں میں نے تو ایک راستہ تجویز کیا کہ ان 4 اراکین کو اختیار دے دیا جائے۔ جگنو محسن، بلال وڑائچ، محمد شفیع اور ساجد آزاد اراکین ہیں، ان کو اختیار دیا جا سکتا ہے۔ وکیل ق لیگ نے کہا کہ جگنو محسن شہباز شریف کے ساتھ ہیں اور ان کے ساتھ پریس کانفرنس کی، ہمیں چاروں ممبران پر اعتماد نہیں ہے۔

وکیل حمزہ شہباز نے کہا کہ کیا پھر خلائی مخلوق الیکشن کروانے آئے؟ ہر ایک پر اعتماد نہیں تو حمزہ شہباز کو بلا مقابلہ منتخب کروا دیں۔چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے کہا کہ ہمیں وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب صاف اور شفاف کروانے ہیں تمام فریقین مشترکہ طور پر ووٹنگ کے لیے پریزائیڈنگ افسر مقرر کریں۔ وکیل پرویز الہیٰ نے کہا کہ ن لیگ کی جانب سے ایسی استدعا کی گئی جو قوانین کی خلاف ورزی ہے اور ڈپٹی اسپیکر کا حلف ہی ان کے مؤقف کی تردید کرتا ہے، جب ڈپٹی اسپیکر کا رویہ ہی متعصب ہو تو وہ کیسے اختیارات استعمال کر سکتا ہے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More