عدالت نے شہباز شریف کے صاف پانی پروجیکٹ کو شفاف قرار دے دیا

لاہور: احتساب عدالت نے سابق وزیر اعلی پنجاب شہبازشریف کے صاف پانی کمپنی پروجیکٹ کو صاف و شفاف قرار دے دیا۔

احتساب عدالت لاہور نے صاف پانی کمپنی ریفرنس میں لیگی رہنما راجہ قمر الاسلام سمیت 16 ملزمان کی بریت کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ جس میں کہا گیا کہ صاف پانی پروجیکٹ میں کوئی خلاف ورزی یا لاقانونیت ثابت نہیں ہوئی اور تمام متعلقہ قوانین پر مکمل عملدرآمد کیا گیا۔

احتساب عدالت نے 23 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ میں کہا کہ عدالت شہباز شریف کی بیٹی اور داماد سمیت دیگر 2 ملزمان کو اشتہاری برقرار رکھتی ہے تاہم پراسیکیوشن کوئی خلاف ورزی یا لاقانونیت ثابت نہیں کر سکی ہے اور پروجیکٹ میں تبدیلیاں متعلقہ کمیٹیوں کی سفارشات سے کی گئیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ پروجیکٹ میں تبدیلی کا مقصد منصوبے کو مزید بہتر بنانا تھا اور نیب نے صاف پانی کمپنی کا ضمنی ریفرنس بھی دائر کیا۔

شہباز شریف کے داماد کے پلازے کا ایک فلور کرائے پر صاف پانی کمپنی کو دیا گیا جبکہ علی ٹریڈ سینٹر کا تیسرا فلور اوپن بڈنگ کے ذریعے دیا گیا۔ پراسیکیوشن کا الزام ہے کہ بغیر قبضہ ایڈونس کرایہ دیا گیا اور حقائق کے مطابق صاف پانی کمپنی نے باقاعدہ قبضہ لیا۔ ریکارڈ کے مطابق صاف پانی کمپنی ریفرنس نیب جرائم میں نہیں آتا اور نامزد ملزمان نے بریت کی درخواستیں نیب ترمیمی آرڈیننس کی روشنی میں دائر کیں۔

نیب پراسکیوٹر کے مطابق نیب ترمیمی آرڈیننس زیر سماعت مقدمات پر اثر انداز نہیں ہوسکتا اور دوسرے نیب ترمیمی آرڈیننس کی سیکشن چار کے تحت زیر التوا کیسز دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ ریکارڈ کے مطابق صاف پانی کمپنی ریفرنس نیب کے جرائم میں نہیں آتا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ عدالت ملزمان کی بریت کی درخواستوں کو منظور کرتی ہے اور ملزمان میں قمرالاسلام، وسیم اجمل، خالد ندیم، ظہور احمد سمیت 16 افراد شامل ہیں تاہم عدالت شہباز شریف کی بیٹی اور داماد سمیت دیگر 2 ملزمان کو اشتہاری برقرار رکھتی ہے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More