سانحہ بارہ مئی کو پندرہ سال گزر گئے

کراچی: سانحہ بارہ مئی کو پندرہ سال گزر جانے کے باوجود ذمہ داروں کو سزائیں نہ ہوسکیں۔ ری اوپن ہونے والے بارہ مقدمات میں بھی پیش رفت نہ ہوسکی ، اس وقت انسداددہشت گردی کی خصوصی عدالتوں میں سانحہ بارہ مئی کے انیس مقدمات زیر سماعت ہیں۔۔

بارہ مئی 2007 وہ دن ہے جب وقت کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو سندھ ہائی کورٹ میں وکلا سے خطاب کرنا تھا لیکن استقبال کرنے والی جماعتیں اور نہ کرنے والی جماعت آمنے سامنے ہوئیں جس کے نتیجے میں 50 سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے تھے ۔اس وقت انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں میں 19 مقدمات زیر سماعت ہیں جن میں ری اوپن ہونے والے 12 مقدمات بھی شامل ہیں جنہیں سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر دوبارہ کھولا گیا تھا۔ ری اوپن ہونے مقدمات میں بھی تاحال پیش رفت نہ ہوسکی ہے۔

مقدمات میں وسیم اختر ، عمیر صدیقی سمیت 21 ملزموں پر فرد جرم عائد ہوچکی ہے اور گواہوں کے بیانات قلمبند ہونا باقی ہیں جوکہ مسلسل التواء کا شکار ہیں مقدمات میں 40 سے زائد ملزم مفرور ہیں جن کے کئی بار ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے باوجود پولیس ان کو گرفتار کرنے میں ناکام ہے جس کی وجہ سے مقدمات میں مزید کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔

پولیس کی جانب سے ٹھوس ثبوت و شواہد پیش نہ کئے جانے پر 18 سے زائد ملزموں نے ضمانتیں کرالی ہیں۔سانحے میں کئی افرادہلاک بھی ہوئے،7 مقدمات میں 2016 میں 20 ملزموں کو گرفتار کیا گیا جن میں میئر کراچی وسیم اختر،محمد اسلم عرف کالا،انوار ، سمیت دیگر شامل ہیں مقدمات میں 40 سے زائد ملزموں کو مفرور قرار دیا گیا جن میں متحدہ کے ایم پی اے کامران فاروقی،محمد عدنان ، اعجاز شاہ عرف گور چانی، دیگرشامل ہیں۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More