قومی اسمبلی کا اجلاس، ارکان اور پارلیمانی سیکریٹری کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کا جواب نہ آنے پر ارکان اور پارلیمانی سیکریٹری کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ وزیر توانائی حماد اظہر نے خبردار کردیا کہ کیسپٹی پیمنٹ چند سال میں تین ہزار ارب روپے تک پہنچ جائے گی۔

قومی اسمبلی کا اجلاس پینل آف دی چیئر امجد نیازی کی صدارت میں ہوا۔ وقفہ سوالات میں جواب نہ آنے پر طاہرہ اورنگزیب نے کہا کہ صرف یہ پوچھا تھا کہ ماڈل کورٹس کہاں کہاں ہیں، لیکن انیس ویں سیشن سے میرے سوال کا جواب نہیں آرہا ایٹمی پلانٹ کا نسخہ تو نہیں پوچھا۔ جواب دیتے ہوئے پارلیمانی سیکریٹری ملیکہ بخاری نے کہا کہ جب جواب آئے گا تو آگاہ کردیا جائے گا۔ پیپلز پارٹی کے عبدالقادر مندوخیل بولے کہ ماڈل کورٹس کہاں ہیں، میں بھی بتاسکتا ہوں۔

قادر خان مندوخیل کے جملوں پر ملیکہ بخاری برہم ہوگئیں۔ تضحیک آمیز رویے کے ساتھ سیاست نہ کریں، ہمیں بھی یہ رویہ اختیار کرنا آتا ہے۔ ملیکہ بخاری کے الفاظ پر اپوزیشن ارکان نے شور شرابہ شروع کردیا۔ عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ ڈیم فنڈز کا سوال کیا تو اس کا بھی جواب نہیں آیا۔ وزیر توانائی حماد اظہر نے بتایا کہ کیپسٹی پیمنٹ چند سال بعد تین ہزار ارب روپے تک پہنچ جائے گی۔

اجلاس میں ن لیگ کے رکن خرم دستگیر نے کہا کہ تحریک لبیک اور ٹی ٹی پی کے ساتھ معاہدہ کرنا قانون کی حکمرانی کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں؟ جس پر پارلیمانی سیکریٹری ملیکہ بخاری نے کہا کہ جو سوال کیا وہ وزارتِ قانون کے دائرے میں نہیں آتا۔ بعد ازاں قومی اسمبلی کا اجلاس جمعہ کی صبح ساڑھے دس بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More