وزیراعلیٰ پنجاب کا صوبے میں ڈسٹرکٹ پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو ازسر نو فعال کرنے کا فیصلہ

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کی زیر صدار ت اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں پنجاب حکومت نے گراں فروشی پر قابو پانے کیلئے اہم قدم اٹھاتے ہوئے ڈسٹرکٹ پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو ازسر نو فعال کرنے کا فیصلہ کیا۔

وزیر اعلیٰ کی زیر صدارت اجلاس میں ارکان پنجاب اسمبلی عبدالعلیم خان، سردار اویس لغاری، چوہدری محمد اقبال، بلال یاسین، خواجہ عمران نذیر، رمضان صدیق بھٹی، چیف سیکرٹری، انسپکٹر جنرل پولیس،ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ، پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ، متعلقہ محکموں کے سیکرٹریز اور اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ رکن پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما عطاء اللہ تارڑ کی اسلام آباد سے ویڈ لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔

وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے کہا کہ فوری طورپر فعال افراد پر مشتمل پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو نوٹیفائی کر کے متحرک کیا جائے،چینی ،آٹا ،گھی اورپولٹری ایسوسی ایشنز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کر کے قیمتوں میں کمی لائی جائے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے گھی،آٹے،چینی،چکن اوردیگر اشیاء ضروریہ کی قیمتیں کم کرنے کیلئے جامع ایکشن پلان بنانے کی ہدایت بھی کی۔

حمزہ شہباز نے کہا کہ دکانوں پر اشیاء کی فہرستیں نمایاں جگہوں پرآویزاں کی جائیں، مہنگائی کے با عث عام آدمی کا کوئی پرسان حال نہیں، ہماری توجہ عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنے پر مرکوز ہے ، اگلے 24گھنٹے میں پرائس کنٹرول کیلئے مربوط پالیسی کو حتمی شکل دی جائے،سابق حکومت کی غلط پالیسیوں کے باعث سفید پوش طبقہ مہنگائی کی چکی میں پس کررہ گیا ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت نے عوام کو مہنگائی سے ہر صورت ریلیف دینا ہے، مارکیٹ کمیٹیوں کو بھی ازسر نو فعال کیا جائے گا، صوبے میں کسی کو ناجائز منافع خوری کی اجازت نہیں دیں گے، ذخیرہ اندوزوں اورناجائز منافع خوروں کے خلاف بلاتفریق کارروائی ہوگی۔ حمزہ شہباز کا مزید کہنا تھا کہ انتظامیہ اور متعلقہ محکمے فیلڈ میں نکلیں اور عوام کو ریلیف دینے کے لئے فعال انداز میں کام کریں، عوام کا مفاد سب سے زیادہ عزیزہے، عام آدمی کے مفادات کا پورا تحفظ کریں گے، عوام کو ریلیف دینے کیلئے ہرممکن اقدام اٹھائیں گے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More