اسلام آباد: احتساب عدالت میں ایل این جی ریفرنس کی سماعت

اسلام آباد: سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سمیت دیگر ملزمان کے خلاف ایل این جی ریفرنس کی سماعت ہوئی۔ اسلام آباد کی احتساب عدالت میں تیسرے نیب ترمیمی آرڈیننس پر دلائل جاری رہے۔

احتساب عدالت کے جج اعظم خان کی جانب سے ایل این جی ریفرنس پر سماعت کے دوران شاہد خاقان عباسی اور شریک ملزمان عدالت میں پیش ہوئے۔ تیسرے نیب ترمیمی آرڈیننس کی گزٹڈ کاپی عدالت پیش کی گئی جس پر عدالت نے استفسار کیاکہ تیسرے ترمیمی آرڈیننس کے حوالہ سے کچھ کہنا چاہتے ہیں، اس پر وکیل صفائی بیرسٹر قاسم عباسی نے مختلف قانونی نکات اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ احتساب عدالت تمام قانونی نکات اور سپریم کورٹ فیصلوں کودیکھ کر فیصلہ کرے۔

اس موقع پر نیب پروسیکیوٹر عثمان مرزا نے اعتراض کرتے ہوئے کہاکہ جو عدالتی فیصلے پیش کیے گئے ان کا اس ریفرنس پر اطلاق نہیں ہوتا۔ ای ای ٹی پی ایل اور سوئی سدرن گیس کے درمیان دوہزار انتیس تک کا معاہدہ ہوا۔ شاہد خاقان اور مفتاح اسماعیل نے دو سو فیصد اضافی گیس دینے کی منظوری دی۔ پیپرا کی تنبہہ کے باوجود ای ای ٹی پی ایل کی ایما پر اقدام اٹھایا گیا، ایسے عمل کی قانون میں کوئی گنجائش نہیں۔

اس موقع پر شاہد خاقان عباسی روسٹرم پر آ گئے جس پر عدالت نے ان سے استفسار کیاکہ آپ کچھ کہنا چاہتے ہیں؟ شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ میں اس آرڈینس سے استفادہ حاصل نہیں کر رہا۔ نیب پروسیکیوٹر کے مشکور ہیں کہ وہ تمام حقائق سامنے لے آئے۔ ان کے دلائل سے ہمیں بہت مدد ملے گی۔ شاہد خاقان عباسی کی درخواست پر عدالت نے نیب کے دلائل کو ریکارڈ کا حصہ بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 16 نومبر تک ملتوی کردی۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More