ایم کیو ایم کو عوامی مفادات میں کوئی دلچسپی نہیں، سعید غنی

کراچی: وزیر اطلاعات سندھ سعید غنی نے ایم کیو ایم پر براہ راست الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم کو عوامی مفادات میں کوئی دلچسپی نہیں ، ان کی سیاست کا محور صرف خون ریزی اور عوا:م میں انتشار پیدا کرنا ہے۔

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ ایم کیو ایم سڑکوں پر آکر ڈرامے بازی کر رہی ہے ، انہوں نےکبھی وفاقی حکومت سے مہنگائی کے معاملے پر ، گیس ، پٹرول اور ڈالر کی قیمتوں پر احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے علیحدہ ہونے کی دھمکی نہیں دی کیونکہ یہ عوامی مسائل تھے اور ایم کیو ایم کو عوامی مسائل میں کوئی دلچسپی نہیں۔

سعید غنی نےکہا کہ ہم سب کا فرض ہے کہ اگر کوئی سیاسی جماعت ملک اور خصوصاً کراچی میں دوبارہ انتشار پیدا کرنا چاہتی ہے ، دنگے فساد کی سیاست چاہتی ہے تو اسے روکیں ، یہ احتجاج کی ڈرامے بازی کرتے ہیں مگر کبھی وزارت سے استعفیٰ نہیں دیتے۔ سعید غنی نے کہا کہ سندھ سب سے زیادہ گیس پیدا کرنے والا صوبہ ہے ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا بھی اپنی ضرورت کی گیس پیدا کرتے ہیں صرف پنجاب ہے جو اپنی ضرورت کی گیس پیدا نہیں کرتا ، وہ سندھ سے گیس لیتے ہیں ، اس ضرورت کو پورا کرنے کیلئے ایل این جی منگوائی گئی جو پنجاب کے صنعتکاروں کو پہلے ساڑھے ڈالر اور اب نو ڈالر میں ملتی ہے لیکن وہی ایل این جی کراچی کے صنعتکاروں کو 15 ڈالر کے حساب سے ملتی ہے۔

سعید غنی نے کہا کہ آپ ہم سے گیس لیتے ہیں ، ٹھیک ہے ملک ایسے ہی چلتا ہے لیکن آپ درآمد کردہ ایل این جی ہمیں بھی پنجاب اور خیبرپختونخوا کےنرخوں پر ساڑھے چھ ڈالر یا نو ڈالر جو بھی ریٹ ہے اسی پر دیں ، یہ ہمیں 15 ڈالر میں مل رہی ہے جو نا انصافی ہے۔

صحافی نے سوال کیا کہ سندھ کی تاریخ میں کبھی اردو بولنےوالا وزیر اعلیٰ نہیں آیا جس پر سعید غنی نے کہا کہ آئین میں لکھا ہے کہ جس جماعت کی اکثریت ہوگی وہ اپنا وزیر اعلیٰ جس منتخب نمائندے کو چاہے بنا سکتی ہے اس لئے پیپلزپارٹی اس میں آزاد ہے البتہ یہ سوال ایم کیو ایم سے پوچھا جائے کہ جب اتحادی حکومت بنی اس وقت ایم کیو ایم کی اکثریت تھی ، انہوں نے اس وقت سودے بازی کی اور اپنا وزیر اعلیٰ نہیں بنایا ، وہ بنا سکتی تھی ، اردو بولنے والوں کو ان سے جواب لینا چاہئے کہ اس وقت انہوں نے اپنے عوام کا ووٹ کیوں بیچا ؟۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More