یوکرین پر حملے کیا تو روس کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی، امریکی صدر

واشنگٹن: امریکی صدر جوبائیڈن سے جرمن چانسلر اولاف شُولس کی وائٹ ہاوس میں ملاقات ہوئی، جس میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ یوکرین پر حملے کی صورت میں روس کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔

امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا کہ روسی جارحیت روکنے کیلئے جرمنی اور امریکا ایک پیج پر ہیں، جرمنی امریکا کے قریبی اتحادیوں میں سے ایک ہے، انہوں نے کہا کہ لگتا ہے کہ پیوٹن جانتے ہیں یوکرین پر حملہ بہت بڑی غلطی ہوگی۔ جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ جرمنی مکمل طور پر قابل اعتماد ہے، جرمنی کے ساتھ دوبارہ اعتماد جیتنے کی ضرورت نہیں، نیٹو روس کے حملے کا جواب دینے کیلئے تیار ہے، تمام فریقوں کیلئے سفارت کاری بہترین راستہ ہے، اگر روس حملہ کرتا ہے تو اقتصادی پابندیاں عائد کریں گے۔

دوسری جانب روسی صدر پیوٹن کی فرانسیسی ہم منصب سے ملاقات ہوئی، روسی صدر نے کہا کہ فرانسیسی صدر کے خیالات مستقبل کے اقدامات کے لحاظ سے حقیقت پسندانہ ہیں، میکرون کی کچھ تجاویز پر آگے بڑھنا ممکن ہے۔ فرانسیسی صدر میکرون نے کہا کہ موجودہ حالات سے آگاہ ہیں،امن کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے، نیٹو کی اوپن ڈور پالیسی ضروری ہے، انہوں نے بتایا کہ آنے والے دن انتہائی اہم ہیں۔ یاد رہے دو روز قبل امریکہ نے دعویٰ کیا تھا کہ روس یوکرین پر آئندہ چند ہفتوں میں حملہ کرسکتا ہے اور جس کے لیے اس نے 70 فیصد تک تیاری مکمل کر رکھی ہے۔

امریکی حکام نے دعویٰ کیا کہ 15 فروری سے مارچ کے اختتام تک کا موسم روس کو بھاری جنگی سازو سامان سرحدوں تک منتقلی کے لیے پیک ٹائم ہو گا۔ واضح رہے کہ روس نے یوکرین کی سرحد کے نزدیک ایک لاکھ فوجی اہلکار تعینات کر رکھے ہیں تاہم روس نے یوکرین پر حملے کے خدشے کو مسترد کر دیا ہے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More