شہر قائد میں اسٹریٹ کرائم کا جن ایک بار پھر بے قابو

کراچی: شہر قائد میں اسٹریٹ کرائم کا جن ایک بار پھر بے قابو ہوگیا ہے۔ ڈاکوؤں نے پہلے گولی بعد میں بات والا فارمولا اپنا لیا۔

کراچی میں اسٹریٹ کرائم کی حالیہ وارداتیں کچھ اور ہی کہانی بیان کررہی ہیں، متعدد وارداتوں میں لٹیروں نے پہلے گولی ماری پھر مال لوٹا۔ کئی وارداتوں کے دوران معمولی مزاحمت پر بھی شہری ڈاکوؤں کے ہاتھوں مال کے ساتھ جان بھی گنوا بیٹھے جبکہ کئی زخمی ہوکر اسپتال جا پہنچے۔

سال کے اولین 39 دنوں کے دوران ڈکیتی مزاحمت پر 13 شہری ڈاکوؤں کے ہاتھوں موت کی نیند سلا دیے گئے۔شہر قائد میں اس قلیل عرصے کے دوران جرائم کی پانچ ہزار 633 وارداتیں رپورٹ ہوئی۔ مزاحمت پر لٹیروں نے پینسٹھ شہریوں کو زخمی بھی کیا۔

شہر میں بزور اسلحہ پندرہ کاریں چھین لی گئیں جبکہ ایک سو چالیس کاریں چوری بھی ہوئیں، یکم جنوری سے تاحال اسلحے کے زور پر شہری 330 موٹر سائیکلوں سے محروم کردیے گئے جبکہ 3050 موٹر سائیکلیں چوری کرلی گئیں۔ اس دوران شہری 2020 موبائل فونز سے بھی محروم کردیے گئے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More