حکومت سہولیات دے تو فش ایکسپورٹ ایک ہزار ڈالر تک پہنچ جائے گی، ایڈمنسٹریٹر ایف سی ایس

کراچی: موسم سرما میں مچھلی کی مانگ بھی بڑھ جاتی ہے، ایف سی ایس کے ایڈمنسٹریٹر زاہد بھٹی کہتے ہیں پاکستان سالانہ500 ملین ڈالر کی مچھلی ایکسپورٹ کرتا ہے، حکومت ماہی گیروں کو سہولیات فراہم کرے تو فش ایکسپورٹ ایک ہزار ڈالر تک پہنچ جائیگی۔

پاکستان کے سمندر میں موجود مچھلیاں پوری دنیا میں پسند کی جاتی ہیں۔ ایڈمنسٹریٹر ایف سی ایس زاہد بھٹی کہتے ہیں کہ پاکستان کی فش ایکسپورٹ 500 ملین ڈالر ہے جو بھارت، ایران اور بنگلہ دیش سے بھی کم ہے۔

زاہد ابراہیم بھٹی کہتے ہیں کہ حکومت ماہی گیروں کو فشنگ بوٹس، گیئرز سمیت دیگر سہولیات دے تو فش ایکسپورٹ ایک ہزار ڈالر تک پہنچ جائے گی۔

ایڈمنسٹریٹر فشرمین کوآپریٹیو سوسائٹی کا مزید کہنا تھا کہ شپنگ اور ڈیپ سی پالیسی پر ہمیں شدید تحفظات ہیں، وفاقی حکومت ہمیں اعتماد میں لے اور پالسیز بنانے کیساتھ ساتھ بجٹ میں بھی ماہی گیروں کیلئے رقم مختص کرے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More