اگر پیر کو رانا شمیم اصل بیان حلفی پیش نہیں کرتے تو فرد جرم عائد کریں گے، اسلام آباد ہائیکورٹ

اسلام آباد: چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا ہے کہ میرے ججز کی غیر جانبداری پر سوال اٹھا ہے۔میں نے اپنی پوری زندگی کسی کو خود تک رسائی نہیں دی۔میرے کسی جج پر کوئی اثرانداز اس لیے نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ یہ دروازہ نہیں کھولتے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں رانا شمیم کے بیان حلفی پر توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے رانا شمیم نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے جواب جمع کروا دیا ہے؟ رانا شمیم نے جواب دیا کہ میں نے جواب 4 دن پہلے وکیل صاحب کو دے دیا تھا۔ میرے وکیل پہنچ رہے ہیں وہ جواب جمع کرائیں گے۔

جسٹس اطہر من اللہ نےعدالتی معاون فیصل صدیقی سے سوال کیا کہ اخبار کی رپورٹنگ کیلئے کیا ذمہ داریاں ہیں؟رانا شمیم نے گزشتہ سماعت پر کہا کہ انہوں نے بیان حلفی اخبار کو نہیں دیا۔کیا کسی ذمہ داری کے بغیر خبر شائع کی جا سکتی ہے؟۔ عدالتی معاون فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ کسی دستاویز کو شائع کرنے سے پہلے تمام متعلقہ فریقین سے موقف لینا ضروری ہے۔کیس میں رجسٹرار سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ سے موقف نہیں لیا گیا۔ رانا شمیم نے کہا کہ یہ خفیہ دستاویز تھا اور اسے شائع کرنے کیلئے نہیں رکھا گیا تھا۔اگر رانا شمیم کا دستاویز پرائیویٹ ہے تو پھر ان پر توہین عدالت نہیں بنتی۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ توہین عدالت کی کارروائی کسی جج کی عزت بچانے کیلئے نہیں ہے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نےرانا شمیم کے وکیل لطیف آفریدی سے مکالمے میں کہا کہ آپ کو پہلے معاملہ سمجھا دیتا ہوں۔ ہم جج پریس کانفرنس نہیں کر سکتے، وضاحت نہیں دے سکتے۔تاثر دیا گیا کہ ایک مخصوص شخص الیکشن سے پہلے رہا نہیں ہونا چاہیے اور ججز پر دباؤ ڈالا گیا۔ یہ بیان حلفی شائع کرنا بھی اسی بیانیے کی ایک کڑی ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ رانا شمیم نے کہا کہ ایک سابق چیف جسٹس نے انکے سامنے اتنا سنگین جرم کیا۔جسٹس عامر فاروق اس وقت چھٹیوں پر تھے، جب متعلقہ اپیلوں پر سماعت تھی۔ کیا چھٹیوں پر موجود جج نے باقی دو ججز کا بھی سمجھوتہ کرایا؟ بینچ میں جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب شامل تھے۔ انہوں نے کہا نواز شریف کی رہائی پر بھی اسی طرح کی خبریں شائع کی گئیں۔ یہ تاثر دیا گیا کہ رہائی الیکشن سے پہلے نہیں ہوئی بعد میں ہوئی ہے۔ یہ تاثر دیا گیا کہ اس ہائیکورٹ کے تمام ججز نے سمجھوتہ کیا۔ یہ کیوں ہوا کہ رانا شمیم نے 3 سال بعد بیان حلفی لکھا؟ اگر ضمیر جاگ گیا تھا تو بیان حلفی کہیں جمع کراتے۔یہ ایک مسئلہ ہے جب کوئی کرسی پر بیٹھا ہوتا ہے تو ضمیر نہیں ہوتا۔ کافی عرصے بعد ضمیر جاگ جاتا ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نےریمارکس دیے کہ میرے ججز کی غیر جانبداری پر سوال اٹھا ہے۔میں نے اپنی پوری زندگی کسی کو خود تک رسائی نہیں دی۔میرے دروازے ہر کسی کے لیے بند رہے۔میں چیف جسٹس ہوں، میرے سامنے کوئی چیف جسٹس ایسا جرم کرتا تو مجھے کیا کرنا چاہیے تھا؟۔ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ میرے کسی جج پر کوئی اثرانداز اس لیے نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ یہ دروازہ نہیں کھولتے۔

جسٹس وقار سیٹھ پر کوئی دباؤ اس لئے نہیں ڈال سکتا تھا کیونکہ وہ کسی کے لیے دروازہ نہیں کھولتے تھے۔اس عدالت کو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سے کوئی غرض نہیں۔ یہ مسئلہ اس عدالت کے اپیلیں سننے والے بینچ میں شامل ججز پر الزام لگانے کا ہے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ اصل بیان حلفی کہاں ہے ؟ پہلے رانا شمیم کو بیان حلفی پیش کر کے اپنی اچھی نیت ثابت کرنی ہو گی۔ اگر پیر کو رانا شمیم بیان حلفی پیش نہیں کرتے تو فرد جرم عائد کریں گے۔

وکیل لطیف آفریدی نے عدالت سے درخواست کی کہ اصل بیان حلفی رانا شمیم کے پوتے کے پاس ہے ،رانا شمیم کو بیان حلفی لینے باہر جانے دیں۔ عدالت نے رانا شمیم کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کی استدعا مسترد کر دی۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا۔ نہیں نہیں ، وہ باہر نہیں جا سکتے۔ اٹارنی جنرل نے کہا انہیں بیان حلفی پاکستانی سفارتخانے کو دینا تھا وہ پاکستان آ جاتا ۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More