ہتک عزت دعویٰ کیس: عدالت نے میشا شفیع کو جرح کیلئے 8 جنوری کو طلب کرلیا

لاہور: سیشن عدالت نے علی ظفر کی جانب سے ہتک عزت کے دعویٰ میں میشا شفیع کو جرح کیلئے آٹھ جنوری کو دوبارہ طلب کرلیا۔ میشا شفیع کا کہنا تھا کہ انکے پاس ہر الزام پر جواب دینے کا وقت نہیں، اگر ہر الزام پر قانونی کارروائی کروں تو اپنی زندگی، کام اور بچوں پر توجہ نہیں دے سکوں گی۔

سیشن عدالت میں اداکار و گلوکار علی ظفر کی جانب سے میشا شفیع کے خلاف ایک ارب روپے کے ہتک عزت کے دعویٰ پر سماعت ہوئی۔ میشا شفیع جرح کیلئے عدالت میں پیش ہوئیں اور بتایا کہ کینیڈا میں رہائش کا انتخاب فیملی کا مشترکہ فیصلہ تھا۔ علی ظفر کے وکیل کے سوال پر میشا نے بتایا کہ سابق مینجر فہدالرحمٰن نے مجھ پر بلیک میل کرنے کا الزام لگایا تھا مگر میں نے ایسا نہیں کیا، میں اپنے پیسے لینے کیلئے اس سے رابطہ کیا اور اپنے مینجر کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی۔

میشا شفیع نے مزید بتایا کہ مینجر نے پوسٹ کی کہ شو شروع ہونے سے پانچ منٹ پہلے سٹیج پر جانے سے منع کیا، ایسا نہیں ہے، شو اپنے مقررہ وقت پر شروع ہوا اور میری پرفامنس شاندار تھی۔ وکیل کے سوال پر میشا شفیع نے بتایا کہ تالیہ ایس مرزا نے الزام لگایا کہ میرا مختلف ڈائریکٹر اور پروڈیوسر کے ساتھ غیرمناسب تعلق ہے مگر میں اسکے الزام کو نہیں مانتی۔

میشا شفیع نے بتایا کہ 2016 میں کینیڈا میں علی ظفر سے ملاقات ہوئی، بہت سی ایسی خواتین کو جانتی ہوں جو اس بدترین صورتحال سے گزری ہیں اور ان میں سے زیادہ کا تعلق لاہور سے ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج خان محمود نے میشا شفیع کو جرح کیلئے دوبارہ طلب کرتے ہوئے سماعت آٹھ جنوری تک ملتوی کردی۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More