سی پیک کے ثمرات پنجاب کو بھی ملنے لگے

لاہور: پاکستان بھر میں جاری چین کے منصوبے سی پیک کے ثمرات پنجاب کو بھی ملنے لگے ہیں۔ صوبے میں توانائی، ٹرانسپورٹ اور صنعت کے مجموعی طور پر چھ منصوبے مکمل جبکہ دو زیر تعمیر ہیں۔

پاک چینی دوستی کا شاہکار پچپن ارب ڈالر کا سی پیک منصوبہ ملکی معاشی پالیسیوں کا اہم جز بن گیا۔ بجلی گھر، صنعتوں کا فروغ اور سڑکوں کی تعمیر و مرمت نے ملکی حالات کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ پاکستان بھر کی طرح پنجاب میں بھی سی پیک کے تحت بڑے پیمانے پر بشیتر منصوبوں پر کام مکمل جبکہ متعدد پر جاری ہے۔

توانائی شعبے کی بات کی جائے تو توانائی کے 3منصوبے مکمل، 1زیر تعمیر جبکہ 1پائپ لائن میں ہے. ساہیوال کول پاور پلانٹ، قائداعظم سولر پارک بہاولپور اور مٹیاری سے لاہور تک 660کے وی کی 900کلومیٹر طویل ٹرانسمیشن لائن کا منصوبہ مکمل ہے۔ اسی طرح دریائے جہلم پر کروٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پنجاب اور آزاد کشمیر میں زیر تعمیر ہے جوکہ 720میگا واٹ بجلی مہیا کریگا. اسی طرح آزاد پتن ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پائپ لائن میں ہے جو 700میگاواٹ بجلی مہیا کریگا۔ دوسری جانب ٹرانسپورٹ کے شعبے میں 3 منصوبے مکمل جبکہ 1پائپ لائن میں ہے۔

پنجاب سے گزرنے والی پشاور تا کراچی موٹروے پر ملتان تا سکھر 392کلو میٹر طویل سیکشن مکمل ہو چکا جبکہ لاہور میں بننے والا پاکستان کا واحد اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبہ روزانہ لاکھوں مسافروں کی سہولت مہیا کر رہا ہے۔ دوسری جانب کراس بارڈر آپٹیکل فائبر کیبل خنجر اب تا راولپنڈی 820کلومیٹر طویل لائن بچھائی جا چکی ہے، پاکستان کی تاریخ کا سب سے اہم منصوبے ایم ایل ون پی سی ون منظور ہو چکا جبکہ سی ہصنعتی شعبے میں فیصل آباد میں علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی زیر تعمیر ہے۔

سیکیورٹی کی بات کی جائے تو سی پیک سمیت دیگر منصوبوں پر کام کرنے والے تین ہزار 355 چینی باشندوں کیلئے محکمہ داخلہ پنجاب نے فوج، رینجرز، اسپیشل پروٹیکشن یونٹ، اسپیشل برانچ اور پولیس کے مجموعی طور پر گیارہ ہزار 225 اہلکار تعینات کیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق چار ہزار 136 سیکورٹی اہلکار سی پیک منصوبوں پر کام کرنے والے چینی باشندوں جبکہ سات ہزار ای122 نان سی پیک منصوبوں پر کام کرنے والے چینیوں کی سیکیورٹی کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More