ملک کے نہیں پی ٹی آئی کے 300 ٹکڑے ہونے چاہیئیں، مریم نواز

اسلام آباد: مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ ملک کے نہیں بلکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 300 ٹکڑے ہونے چاہیئیں۔

مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کا کوئی مینڈیٹ تھا ہی نہیں بلکہ وہ انہوں نے چھینا تھا اور عمران خان اقتدار کے ابتدائی دنوں میں ہی ناکام ہو گئے تھے۔ عمران خان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت سے اپیل ہے کہ وہ دماغی اور نفسیاتی ماہرین پر مشتمل بورڈ بنائے کیونکہ عمران خان کا نفسیاتی معائنہ ضروری ہو گیا ہے وہ اقتدار کے لیے ہوش کھو بیٹھے ہیں۔ عمران خان اقتدار ملنے کے 30 دن میں ہی بے نقاب ہو گئے تھے اور وہ اپنی ناکامی کا ملبہ ملک پر ڈالنے کو تیار ہیں۔

مریم نواز نے کہا کہ کیا یہ گولڈ اسمتھ یا اسرائیل کا ایجنڈا ہے ؟ پہلے کشمیر سے متعلق عمران خان کا بیان آیا تھا اور اب عمران خان پاکستان کے 3 ٹکڑوں کا کہہ رہے ہیں۔ ملک کے 3 ٹکڑوں کے خواب دیکھنے والی جماعت کے 300 ٹکڑے ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے ایٹمی پروگرام کو ڈی نیو کلیئرائز کرنے کی بات کی، ان کا اقتدار چلا گیا تو وہ ایٹمی پروگرام سے متعلق ایسی باتیں کرنے لگے ہیں۔ عمران خان کا بیان قابل مذمت ہے۔ نواز شریف 3 بار اقتدار سے نکالے گئے اور 2 بار جلا وطنی برداشت کی۔ نواز شریف کو عمر قید کی سزائیں سنائی گئیں اور ان کے ہاتھ جہاز کی سیٹ سے باندھے گئے، نواز شریف کی بیٹی کو ان کے سامنے گرفتار کیا گیا لیکن نواز شریف کی ہر بار آواز آئی پاکستان زندہ باد۔

رہنما مسلم لیگ ن نے کہا کہ پیپلز پارٹی پر بھی مشکلات آئیں لیکن آواز آئی پاکستان کھپے اور کبھی کسی سیاسی جماعت نے ملک کے 3 ٹکڑے ہونے کا بیان نہیں دیا لیکن آپ کی سیاست یہ ہے کہ آپ کا اقتدار نہ ہو تو پاکستان کے 3 ٹکڑے ہوجائیں۔ ابھی تو عمران خان کو ہاتھ ہی نہیں لگے اور ان کو کسی نے کچھ کہا ہی نہیں۔ جو خود کو سیاسی لیڈر کہتے تھے آج ضمانتی ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لیڈر ملک و قوم کو توڑنے کی باتیں نہیں کرتے بلکہ جوڑتے ہیں لیکن عمران خان نے ایٹمی پروگرام کو رول بیک کرنے کی بات کی، جب بھٹو نے ایٹمی پروگرام کا خواب دیکھا تھا تب عمران باہر عیاشی کر رہے تھے اور جب نواز شریف نے ایٹمی دھماکے کیے تب بھی عمران خان باہر عیاشی کر رہے تھے۔ پاکستان کو اٹامک ملک بنانے کے لیے نواز شریف نے قربانیاں دیں۔

مریم نواز نے کہا کہ پاکستان کو اپنی نالائقی کی وجہ سے پوری دنیا سے لڑا دینا صحیح فیصلہ ہے ؟ ہم نے بھی فوج پر تنقید کی تھی لیکن ہم نے مثبت تنقید کی اور سپہ سالار جب آپ کے ساتھ کھڑے تھے تو وہ عظیم تھے لیکن جب سپہ سالار الگ ہوئے تو وہ میر صادق اور میر جعفر ہو گئے۔ عمران خان نے آئین توڑا تھا اس کی جزا میں ہار ڈالنا نہیں بنتا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان عدلیہ کو سیاست میں گھسیٹ رہے ہیں کہ لانگ مارچ میں میری مدد کرو۔ عمران خان کے فتنے سے کوئی نہیں بچا لیکن عمران خان رانا ثنا اللہ سے ڈر کر بھاگ گئے۔ عمرا ن خان نے آئین توڑا تھا تو عدالتیں اس لیے رات کو کھلیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان نے اپنا رخ پاکستان کی سالمیت کی طرف کر دیا کیونکہ انہیں اقتدار کھو جانے کی تکلیف ہے اور کبھی نہیں دیکھا کسی سیاسی جماعت نے سڑکوں کے درخت جلائے ہوں جبکہ جو شخص اقتدار میں پاکستان کی تباہی تھا، آج اس کو مہنگائی یاد آ گئی، عمران خان نے عدلیہ کے بعد اب پاکستان کی طرف توپوں کا رخ کر لیا ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ عمران خان کہتے تھے آلو، پیاز، ٹماٹر کے نرخ پتہ کرنے نہیں آیا لیکن آج انہیں آلو، پیاز کے نرخ یاد آ گئے۔ عمران خان نے کسی کے کہنے پر سی پیک کو بند کرنا تھا جبکہ عمران خان لوگوں کے بچے مروا رہے ہیں اور اپنے تو باہر بیٹھے ہیں۔ میں نواز شریف کی بیٹی ہوں اور ڈیتھ سیل میں رہ کر آئی ہوں، آپ بھی اپنے بچے لائیں۔

انہوں نے کہا کہ عوام میری حمایت نہ کریں لیکن پاکستان کے ساتھ کھڑے ہو جائیں کیونکہ ہمیں اس فتنے اور شر سے ملک کو بچانا ہے اور عمران خان ہاتھ میں تسبیح اور زبان کا غلط استعمال کرتے ہیں، انہیں پچھتانا چاہیے۔ جسٹس شوکت عزیز کے ساتھ ناانصافی ہوئی ان سے متعلق حکومت سے بات کروں گی۔ انصاف دینے سے عزت بڑھتی ہے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More