لاپتہ صحافی مدثر نارو کی بازیابی کا کیس: وفاقی حکومت کو متاثرہ فیملی کو مطمئن کرنے کی ہدایت

اسلام آباد: ہائیکورٹ نے لاپتہ صحافی مدثر نارو کی بازیابی کیس میں وفاقی حکومت کو متاثرہ فیملی کو مطمئن کرنے کی ہدایت کی ہے۔ عدالت نے وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری سے لاپتہ شہری کے متاثرہ خاندان کو وزیر اعظم کی جیب سے معاوضہ کی ادائیگی سے متعلق رائےطلب کرلی۔

لاپتہ صحافی مدثر نارو کے والد کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کی۔ وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کو مخاطب کرتے ہوئے جسٹس اطہر من اللہ بولے کہ ملک میں جبری گمشدگیوں کے معاملہ پر ریاست کا رد عمل لاچارگی پر مبنی ہے۔ شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ جبری گمشدگیوں کا معاملہ ہمارے منشور میں شامل تھا، اس ضمن میں قانون سازی کا عمل سینیٹ میں شروع ہوگا۔

چیف جسٹس بولے کہ پبلک آفس ہولڈر کا کوئی عزیز غائب ہو جائے تو پوری مشینری حرکت میں آجائے گی، ریاست کا رد عمل عام شہری کے غائب ہونے پر بھی یہی ہونا چاہیے۔ درخواست گزار کے مطابق لاپتہ مدثر کی اہلیہ بھی چل بسی ہے، ریاست کی ذمہ داری ہے کہ لاپتہ شخص کے بچے کی دیکھ بھال کرے اور متاثرہ خاندان کی فریاد سنے۔

وزیر انسانی حقوق ڈاکٹرشیریں مزاری نے عدالت کو بتایا کہ بیان حلفی ابھی تک نہیں ملا، اس کے مطابق اخراجات کی ادائیگی کا عمل شروع کیا جائے گا۔ لواحقین کی وزیراعظم سے ملاقات بھی کرائی جائے گی۔ چیف جسٹس نے کہاکہ آپ کوشش کریں کہ یہ وزیراعظم سے ملاقات کے بعد مطمئن ہو کر واپس آئیں۔ لاپتہ افراد کی ذمہ داری تو وزیراعظم اور کابینہ ارکان پر عائد ہوتی ہے۔ ریاست کی بجائے ازالے کی رقم وزیراعظم اور کابینہ ارکان کیوں نہ ادا کریں تاکہ یہ معاملہ ہی ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکے۔

سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری کا کہنا تھاکہ تحریک انصاف کے منشور میں لاپتہ افراد کی بازیابی کا ذکر ہے، لاپتہ افراد کے کیسز روکنے کے لیے قانون سازی کی جائے گی۔ وزیر برائے انسانی حقوق کے مطابق موجودہ حکومت کی کوششوں کے باعث گزشتہ پندرہ بیس سالوں سے لاپتہ کئی افراد بازیاب بھی ہوئے ہیں۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More