چیف جسٹس گلزار احمد آج ریٹائر ہو جائیں گے

اسلام آباد: ستائیسویں چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد آج اپنی مدت ملازمت پوری کرنے کے بعد آج ریٹائرڈ ہورہے ہیں۔ چیف جسٹس گلزار احمد 2 سال سے زائد چیف جسٹس رہے۔

رپورٹ کے مطابق فل کورٹ ریفرنس ساڑھے 11 بجے سپریم کورٹ میں ہوگا، اٹارنی جنرل ، پاکستان بار کے نمائندگان فل کورٹ ریفرنس میں شرکت کریں گے۔ چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے سپریم کورٹ میں بطور چیف جسٹس 2 سال 10 دن اپنے فرائض انجام دیئے، چیف جسٹس گلزار احمد کا دور جہاں کورونا وائرس کے باعث مشکل ترین دور رہا وہی اہم اور تاریخی فیصلے بھی ہوئے۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے اپنے دور میں کراچی نسلہ ٹاور گرانے، گجر نالہ پر تجاوزات ختم کرنے، رفاہی پلاٹ پر شادی ہالز کی تعمیر کے خلاف اور شاہراہوں اور فٹ پاتھ سے تجاوزات ختم کرنے کا حکم دیا۔ کراچی سرکلر ریلوے بحالی، اقلیتوں کے حقوق کیلئے اقدامات، اور پنجاب کے بلدیاتی ادارے بحال کرنے کے احکامات بڑے فیصلے تصور کئے جارہے ہیں۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے ملک بھر میں ماحولیاتی آلودگی کی روک تھام کیلئے فیصلے دیے. آرمی پبلک اسکول پشاور سانحہ پر وزیر اعظم عمران خان کی طلبی اور لواحقین کے تحفظات ختم کرنے کا حکم دیا۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے اپنے دور میں کرونا وائرس اور بریسٹ کینسر سمیت رحیم یار خان مندر، کرک مندر اور کوہاٹ حملوں پر ازخودنوٹس نوٹس بھی لیا۔

چیف جسٹس گلزار احمد ہمیشہ عدلیہ میں خواتین ججز کی تعداد بڑھانے کے خواہش مند رہے اور اسی وجہ سے جسٹس عائشہ ملک کو سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More