لیگی رہنما نذیر چوہان سمیت آٹھ ملزمان کا جوڈیشل ریمانڈ


انسداد دہشتگردی لاہور کی خصوصی عدالت نے فائرنگ کرنے اور کار سرکار میں مداخلت کے کیس میں نذیر چوہان سمیت آٹھ ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا۔ پراسیکوشن کی جانب سے ملزمان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی تھی۔

لاہور کے تھانہ چوہنگ کی حدود میں پولیس پر فائرنگ کرنے اور کار سرکار میں مداخلت کے کیس میں لیگی رہنما نذیر چوہان سمیت آٹھ ملزمان کو انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش کیا گیا۔ پولیس نے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے بتایا کہ ملزمان پر پولیس پارٹی پر حملہ اور فائرنگ کا الزام ہے۔ ملزمان کے پاس بھاری مقدار میں اسلحہ ہے وہ ریکور کرنا ہے لہذا تفتیش اور برآمدگی کے لئے جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔

ملزمان کے وکیل نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے بتایا کہ ضمنی الیکشن کے وقت جوہر ٹاؤن میں ایک واقعہ پیش آیا تھا۔ نذیر چوہان پر جوہر ٹاؤن تھانے میں مقدمہ درج ہے۔ ایس ایس پی انویسٹی گیشن نے اس واقعہ کی تفتیش کے بعد ہمیں کلین چٹ دی جبکہ ایس ایس پی کی رپورٹ کے مطابق مقدمے میں گرفتاری درکار نہیں تھی۔ پولیس نے نذیر چوہان کو بدنیتی کی بنیاد پر گرفتار کیا ہے لہذا سیاسی مقدمے کو عدم شواہد کی بنیاد پر خارج کیا جائے۔

انسداد دہشتگردی عدالت کی ایڈمن جج عبہر گُل خان نے دلائل سننے کے بعد نذیر چوہان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کردی۔ عدالت نے لیگی رہنما نذیر چوہان سمیت آٹھ ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا کر تفتیشی رپورٹ طلب کرلی۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More