سیالکوٹ واقعہ کی ابتدائی رپورٹ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کو ارسال

لاہور: سیالکوٹ واقعہ کی ابتدائی رپورٹ وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو ارسال کر دی۔

ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا کہ فیکٹری کی مشین پر مذہبی حوالے سے ایک سٹکر لگا تھا، غیر ملکیوں کے وزٹ کی وجہ سے منیجر نے اسٹاف کو اسٹکر ہٹانے کا کہا، ملازمین کے انکار پر منیجر نے خود ہٹا دیا۔ پنجاب حکومت نے ابتدائی رپورٹ وزیراعظم عمران خان کو پیش کر دی، جس میں بتایا گیا کہ مرکزی ملزمان سمیت اب تک 112 ملزمان گرفتار کئے جا چکے ہیں، سیالکوٹ میں ایسے افراد جنہوں نے اشتعال دلایا، ان کو بھی گرفتار کر لیا، پولیس نے مرکزی ملزمان کی گرفتاری کر کے مزید تحقیقات شروع کر دیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ملزمان کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا تاکہ مزید تحقیقات کی جا سکیں، فیکٹری مینیجرز کی معاونت سے واقعہ میں ملوث افراد کی شناخت کی گئی۔ سانخہ سیالکوٹ کی رپورٹ وزیر اعلی پنجاب کو ارسال کر دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ مار پیٹ کا واقعہ صبح گیارہ بجے شروع ہوا، گیارہ بج کر 25 منٹ پر 3 اہلکار موقع پر پہنچے، واقعے سے کچھ دیر قبل ورکرز کو ڈسپلن توڑنے پر فارغ کیا گیا، مینجر کے سخت ڈسپلن اور کام لینے پر ورکرز پہلے سے غصے میں تھے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ چند غیر ملکیوں کمپنیوں کے وفد نے فیکٹری کا دورہ کرنا تھا، مینجر نے ورکرز کو کہا سب مشینیں صاف ہونی چاہیے، مینجر نے مشین پر لگے اسٹکیرز ہٹنانے کا کہا، مبینہ طور پر جب فیکٹری ملازمین نے اسٹکر نہیں ہٹایا تو منیجر نے خود ہٹا دیا، بادی النظر میں ورکرز نے اسٹیکرز کا بہانہ بنا کر تشدد کیا، اسٹیکرز پر مذہبی تحریر درج تھی، واقعہ کے وقت فیکٹری مالکان غائب ہوگئے۔

وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت کا کہنا ہے کہ اب تک کی تحقیقات سے متعلق ابتدائی رپورٹ وزیراعظم عمران خان کو بھجوا دی ہے، واقعہ کے ذمہ داران کے خلاف سخت ترین کارروائی عمل میں لائی گی، واقعہ کے محرکات میں توہین مذہب کے ساتھ انتظامی پہلاؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے، سیالکوٹ اور گردونواح میں گرجا گھروں اور غیر ملکی فیکٹری ورکرز کی سیکیورٹی سخت کر دی ہے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More