سندھ میں شدید بارشوں سے سیلابی صورتحال، بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان

سندھ میں شدید بارشوں سے سیلابی صورتحال، بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان۔ کئی علاقوں میں رابطہ سڑکیں بہہ جانے کے باعث لوگوں کو خوراک اور ادویات کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ بڑے رقبہ پر کھڑی فصلیں تباہ۔

سکھر میں سیلابی ریلوں کے باعث تین سو سے زائد دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوچکا ہے۔ شہری اور دیہی علاقوں میں کھانے پینے کی اشیاء کا بحران ہے۔ لاڑکانہ اور قمبر شہدادکوٹ کے مختلف علاقوں میں بلوچستان سے آنے والے سیلابی ریلوں نے تباہی مچا دی ہے۔ مختلف مقامات پر لوگ امداد کے منتظر ہیں۔

دادو میں بھی بلوچستان سے آنے والی ندی میں طغیانی کے بعد کاچھو میں سیلابی صورتحال ہے۔ کاچھو کے سینکڑوں دیہات کا رابطہ منقطع ہے۔ سندھ کے تفریحی مقام گورکھ ہل اسٹیشن کا راستہ بھی بند ہے۔ لوگ کیمپوں میں امداد کے منتظرہیں۔ بیشتر دیہاتوں میں شہر سے زمینی رابطہ منقطع ہونے کے باعث خوراک اور ادویات کی قلت ہوگئی ہے۔

سانگھڑ ضلع میں ایک ہزار سے زائد دیہات کو نقصان پہنچا۔ مٹیاری، ٹنڈو آدم، شہدادپور، بدین، ٹھٹھہ، سجاول، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہیار، جامشورو، تھرپارکر اور عمرکوٹ میں سڑکیں کئی فٹ پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ حیدرآباد، نوابشاہ، نوشیروفیروز، خیرپور، جیکب آباد، شکار پور، گھوٹکی اور کشمور میں بھی وفقہ وقفہ سے بارش کا سلسلہ جاری ہے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More