سعودی عرب میں اونٹوں کا پہلا فائیو اسٹار ہوٹل

ریاض: سعودی عرب میں دنیا کا پہلا اونٹوں کا اوپن ائیر ہوٹل کھول دیا گیا ہے، ہوٹل عبدالعزیز اونٹ فیسٹیول کے دوران اونٹوں کی خدمت اور انہیں تیار کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق ‘ٹیٹا مین’ کے نام سے کھولے جانے والے ہوٹل میں 120 کمرے شامل ہیں جبکہ 50 سے زیادہ خادمین اونٹوں کی دیکھ بھال، گرومنگ اور تحفظ کی خدمات فراہم کریں گے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہوٹل اپنے مہمان اونٹوں کے لیے فائیو سٹار سروس مہیا کرتا ہے، جس میں کھانا، گرم دودھ، اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ اصطبل صاف اور گرم ہو۔

ریاض: سعودی عرب میں دنیا کا پہلا اونٹوں کا اوپن ائیر ہوٹل کھول دیا گیا ہے، ہوٹل عبدالعزیز اونٹ فیسٹیول کے دوران اونٹوں کی خدمت اور انہیں تیار کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق ‘ٹیٹا مین’ کے نام سے کھولے جانے والے ہوٹل میں 120 کمرے شامل ہیں جبکہ 50 سے زیادہ خادمین اونٹوں کی دیکھ بھال، گرومنگ اور تحفظ کی خدمات فراہم کریں گے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہوٹل اپنے مہمان اونٹوں کے لیے فائیو سٹار سروس مہیا کرتا ہے، جس میں کھانا، گرم دودھ، اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ اصطبل صاف اور گرم ہو۔ ہوٹل کی جانب سے ابھی تک ایک رات کا کرایہ 18 ہزار مختص کیا گیا ہے۔ اونٹ کے مالکان کا کہنا تھا کہ یہ مالکان اور کلب کے عہدیداروں کے لیے شاندار اور آرام دہ ہے۔ جہاں اونٹوں کو ان کے کمروں میں داخل ہونے سے پہلے جانچا جاتا ہے۔ اونٹوں کا میلہ، جو 40 دن تک جاری رہے گا، یکم دسمبر کو ریاض میں شروع ہوا، جس میں خلیج، امریکا، آسٹریلیا، فرانس اور روس سے اونٹوں کے مالکان اور شوقین افراد کو شامل ہیں۔ یہ تہوار دنیا بھر سے ایک دن میں ایک لاکھ سے زائد زائرین کو راغب کرتا ہے، جس سے سعودی عرب کی روایات کو برقرار رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

ہوٹل کی جانب سے ابھی تک ایک رات کا کرایہ 18 ہزار مختص کیا گیا ہے۔ اونٹ کے مالکان کا کہنا تھا کہ یہ مالکان اور کلب کے عہدیداروں کے لیے شاندار اور آرام دہ ہے۔ جہاں اونٹوں کو ان کے کمروں میں داخل ہونے سے پہلے جانچا جاتا ہے۔ اونٹوں کا میلہ، جو 40 دن تک جاری رہے گا، یکم دسمبر کو ریاض میں شروع ہوا، جس میں خلیج، امریکا، آسٹریلیا، فرانس اور روس سے اونٹوں کے مالکان اور شوقین افراد کو شامل ہیں۔

یہ تہوار دنیا بھر سے ایک دن میں ایک لاکھ سے زائد زائرین کو راغب کرتا ہے، جس سے سعودی عرب کی روایات کو برقرار رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More