اٹارنی جنرل کا خط زیر سماعت مقدمے پر اثرانداز ہونے کی کوشش ہے

لاہور: صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف نے اٹارنی جنرل کی جانب سے نوازشریف کی واپسی سے متعلق لکھے گئے خط کا جواب دے دیا۔

نواز شریف کے معاملہ پر بیان حلفی کا معاملہ ،شہباز شریف نے جوابی خط میں کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے اٹارنی جنرل نے خط وفاقی کابینہ کی ہدایت پر لکھا، یہ شریف خاندان کے میڈیا ٹرائل اور زیر سماعت مقدمےپر اثر انداز ہونے کی کوشش ہے، ہر قسم کی قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتا ہوں۔ بیان حلفی کی ایک بھی خلاف ورزی نہیں کی۔ معاملہ پر ہائی کورٹ کے فیصلہ کے مندرجات کو نہیں دیکھا گیا۔ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ اٹارنی جنرل نے میرے بیان حلفی کا آخری پیرا کیوں نہیں دیکھا۔

انہوں نے خط میں مزید کہا کہ مجھے یقین ہے یہ خط سیاسی مقاصد اور متعلقہ قوانین نظرانداز کرکے لکھا گیا ، اس میں میڈیکل بورڈ کے قیام کے عمل ،کارروائی اور سفارشات کو نظر انداز کیا گیا، معاملہ لاہور ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے جس کے باعث اٹارنی جنرل کا خط توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More