جو میرٹ پر ہوتا اسے آرمی چیف بناتا، عمران خان

اسلام آباد: سابق وزیر اعظم و چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ مجھے کہا جاتا تھا نواز شریف کے خلاف ہیں تو زرداری سے تو دوستی کر لو، میں ہمیشہ کہتا تھا کہ یہ دونوں چور ہیں، ان کا انٹرسٹ چوری کرنا اور چوری کو بچانا ہے۔ ان کو ڈر فوج سے ہوتا ہے، 90 کی دہائی کو دو بار ان کی چوری پر حکومتیں ختم ہوئی، ان کے دل میں خوف آگیا تھا کہ میں جنرل فیض حمید کو لانا چاہتا ہوں۔

پی ٹی آئی کے زیر اہتمام منعقدہ رجیم چینج سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ خرم دستگیر نے حکومت بدلنے کی وجہ بتا دی، خرم دستگیر نے کہا کہ عمران خان اپنا آرمی چیف لگانا چاہتا تھا، اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ نومبر میں کس کو آرمی چیف بنانا ہے، میں نے تو کبھی نہیں سوچا تھا کہ مجھے اپنے آرمی چیف کی ضرورت ہے، میں تو جو بھی میرٹ پر ہوتا اسے آرمی چیف بناتا، کوئی مجھے بتائے کہ میں نے کبھی اپنے رشتہ داروں کو نوازا ؟۔

عمران خان نے کہا کہ نواز شریف کے پاس چوری کا پیسہ تھا، وہ اداروں کو کنٹرول کرنا چاہتا تھا، آپ دیکھ لیں گے اب ہر جگہ اس نے اپنے لوگ بٹھا دیے، نواز شریف نے سب اداروں کو کنٹرول کیا ہوا تھا ، نواز شریف فوج کو کنٹرول کرنا چاہتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ جس دن آپ اسرائیل کو تسلیم کریں گے اسی دن کشمیر بھی ختم ہوجائے گا ، نواز شریف جب ہندوستان گیا تھا حریت رہنماؤں سے نہیں ملا۔

چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ میں کبھی خود کو اینٹی امریکہ نہیں سمجھتا، لیکن کیا ہمیں ٹشو پیپر کی طرح استعمال ہونا چاہیئے، کیا ہم امریکہ کو بیسز دے دیں، امریکہ اپنے انٹرسٹ کے لیے رجیم چینج کرتا ہے ہمارے انٹرسٹ کے لیے نہیں کرتا، ریجیم چینج سے امریکہ کو فائدہ ہوا وہ پاکستان کو استعمال کرنا چاہتے تھے۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ مجھے سازش کا ایک سال پہلے پتا چل چکا تھا، مراسلے سے زیادہ تکلیف اس وقت ہوئی جب چوروں کو ہم پر مسلط کر دیا گیا، میں تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ کوئی شہباز شریف کو وزیراعظم بنا دے گا، میں نے نیوٹرلز کو بھی کہا شہباز شریف اور اس کے بیٹے پر اربوں کے کرپشن کیسز ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے اندر پارلیمنٹ کی دھجیاں اڑائی جارہی ہے، جہاں راجا ریاض اپوزیشن لیڈر ہو اس پارلیمنٹ کی کیا حیثیت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی کریڈیبیلیٹی ختم ہوچکی ہے، یہ الیکشن کمیشن جمہوریت کی تباہی ہے۔

چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ ہمارا ماڈل ” مدینہ کی ریاست” دنیا نے ایڈاپٹ کیا ہے، امر بالمعروف اللہ کا حکم ہے، معاشرہ برائی سے لڑتا ہے، یہ معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ برے کو برا کہیں، اللہ نے آپ کو نیوٹرل رہنے کی اجازت نہیں دی،انصاف کو آپ بمباری سے ختم نہیں کرسکتے۔

عمران خان نے کہا کہ جو ہمارے اوپر بیٹھے ہیں ان کا مقصد چوری بچانا تھا، نیب جب رانا ثناءاللہ کے نیچے آئے گی تو خود ہی اندازہ لگائے کہ کیا حال ہوگا،
ملک کیساتھ یہ لوگ جو کام کرینگے پاکستان کو کسی دشمن کی ضرورت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے یا ادھر جانا ہے یا ادھر جانا ہے، نیوٹرل کا بیچ میں سے گیئر ہی نکل گیا ہے، گھر پر ڈاکا پڑے تو کیا چوکیدار نیوٹرل ہو سکتا ہے؟۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More