آسٹریلیاکا دورہ پاکستان، ایک خواب جو مکمل ہوا

تحریر۔۔۔ عبید الرحمن اعوان

دنیا بھر میں کرکٹ کو فالو کرنے والے لاکھوں کروڑوں نوجوان ہیں جو مختلف ٹیموں اور کھلاڑیوں کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا میں جہاں جہاں کرکٹ کو دیکھا اور کھیلا جاتا ہے وہاں آسٹریلیا کے چاہنےوالے موجود ہیں۔پاکستان میں بھی آسٹریلین کرکٹ ٹیم اور کھلاڑیوں کو خاصا پسند کیا جاتا ہے اور اس کی ایک جھلک ہمیں پاکستان کے خلاف سیریز کے دوران اسٹیڈیمز میں موجود شائقین کے نعروں اور ان کے ہاتھوں میں آسٹریلیا کے لیےخیرمقدمی بینرز اور کھلاڑیوں کے لیے پسندیدگی سے واضح طور پر نظر آئی ہے۔ اس سے یہ پیغام ملا کہ پاکستانی عوام کرکٹ سے بے پناہ محبت کرتے ہیں اور صرف اپنی قومی ٹیم کوہی نہیں بلکہ اچھا کھیل پیش کرنے والی ہر ٹیم کو سپورٹ کرتےہیں۔

آسٹریلین کھلاڑیوں کو پاکستان میں کھیلتے دیکھ کر کئی نوجوان اس کھیل کی طرف راغب ہوں گے اورکچھ آسٹریلین کھلاڑیوں اپنا آئیڈیل بنائیں گےجبکہ کسی کا آئیڈیل پاکستانی کھلاڑی ہوں گے۔ یہی سب سے بڑا فائدہ ہوتا ہے ہوم گراؤنڈز پر اور ہوم کراؤڈ کے سامنے کھیلنے کا۔ آسٹریلیا کو پاکستان آنے میں چوبیس سال کا طویل وقت لگا اگر چوبیس سال پہلے نظر دوڑائی جائے تو موجودہ پاکستانی ٹیم میں شاہین شاہ آفریدی، محمد حسنین، شاداب خان سمیت کئی کھلاڑی ایسے ہیں جو چوبیس سال پہلے پیدا بھی نہیں ہوئے تھے یا پھرکپتان بابراعظم سمیت کئی کھلاڑی چوبیس سال پہلے اتنے چھوٹے تھے کہ بلا پکڑنے کہ قابل بھی نہیں ہونگے لیکن آج دنیا نے دیکھا کہ وہی کھلاڑی نہ صرف آسٹریلیا کے خلاف کھیلے بلکہ اسے پچھاڑا بھی۔ اب کئی ایسے نئے کھلاڑی بھی ضرور پیدا ہوں گے جنہوں نے حال ہی میں ختم ہونے والی سیریز میں پہلی مرتبہ آسٹریلیا کو کھیلتے دیکھا ہوگا اور مستقبل میں وہ بھی پاکستان کی طرف سے آسٹریلیا کے خلاف کھیل رہے ہونگے۔

گزشتہ سال کیوی ٹیم کے اچانک راولپنڈی سے وطن واپسی کے فیصلے اور پھرانگلینڈ کرکٹ ٹیم کے پاکستان کا دورہ کرنے سےانکار نے جہاں دنیا کو حیران کیا وہیں آسٹریلین کرکٹ ٹیم کےدورہ پاکستان پربھی شدید خطرات منڈلانے لگ گئے تھے۔ اس کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے رائے عامہ کو ہموار کیا اوراس کاکریڈٹ رمیزراجہ اینڈ کمپنی کو ضروردیا جانا چاہیے کہ جس نےدن رات ایک کرکےآسٹریلیاکےدورہ پاکستان کو یقینی بنایا اور بالاآخر دنیا نے دیکھا کہ آسٹریلین ٹیم نے انتہائی پرامن اورپرسکون ماحول میں تین ٹیسٹ، تین ون ڈے انٹرنیشنل اور ایک بین الاقوامی ٹی ٹوئںٹی میچ کھیلا ۔۔ تینوں طرز کی کرکٹ میں دونوں ٹیموں کی جانب سےاعلی درجے کی کرکٹ کھیلی گئی۔ راولپنڈی اورکراچی کےٹیسٹ میچز ڈرا ہوئے اورجس طرح کراچی میں بابراعظم اور محمد رضوان نے چوتھی اننگزمیں سنچریز بناکر میچ بچایا وہ انتہائی قابل تعریف ہے۔ لاہور ٹیسٹ میں بھی دونوں ٹیموں نےٹاپ کلاس کرکٹ کھیلی لیکن جیت آسٹریلیا کے نام رہی کیونکہ وہ ہم سے بہتر کرکٹ کھیلی تھی۔۔ ون ڈے سیریز میں سب نے دیکھا کہ پاکستان نے پہلا میچ ہارنے کے باوجود فیورٹ آسٹریلیا کو آؤٹ کلاس کیا اور سیریز دوصفر سے جیتی۔

ٹیسٹ سیریز میں بنائی گئی وکٹوں پرخاصی تنقید ہوئی خاص طور سے راولپنڈی کی وکٹ جہاں پانچ دن کے کھیل میں گیارہ سو ستاسی رنز بنائے گئے اور صرف چودہ وکٹیں گریں، راولپنڈی کی وکٹ کو بیٹنگ فرینڈلی تو ضرور کہا جا سکتا ہے لیکن یہ ہرگز ایسی وکٹ نہیں تھی کہ جسے کھیل کے لیے یا کھلاڑیوں کے لیے خطرناک قرار دیا جا سکتا اور آئی سی سی اس کا نوٹس لے کرراولپنڈی کو ڈی میرٹ پوائنٹ دیتی۔ کراچی کی وکٹ بہتررہی اور اگر آخری دودن پاکستانی بیٹسمین وکٹ پر رک کر اس میچ کو ڈرا نہ کراتے تو اس میچ میں آسٹریلیا کی کامیابی یقینی تھی۔ بابراعظم کے ایک سو چھیانوے اورمحمد رضوان کی سنچری نے اس میچ کو بچانے میں اہم کردار ادا کیاتھا۔۔

ون ڈے سیریز اور واحد ٹی ٹوئنٹی میچ جو کہ ابتدائی شیڈول میں راولپنڈی میں ہونا تھے چند ناگزیر سیاسی وجوہات کی بنا پران میچوں کولاہور منتقل کرنا پڑا ۔۔۔ پہلا ون ڈے ہارنے کے بعد جس طرح پاکستانی ٹیم نے کم بیک کیا اور خاص طور سے دوسرا ون ڈے جہاں ساڑھے تین سو کا ہدف عبور کرکے تاریخ رقم کی اور پھر ون ڈے سیریز جیتی،،، اس پر بابراعظم الیون کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔

آسٹریلیا کے دورے کے بعد اب امید ہو چلی ہے کہ کسی بھی دوسری ٹیم کو پاکستان آکر کھیلنے میں کوئی مسائل اور تشویش نہیں ہوگی اور اب مستقبل قریب میں ایشیا اور آئی سی سی سطح کے ایونٹس کا انعقاد بھی پاکستانی سرزمین پر ممکن ہوسکےگا۔

twitter.com/UbaidAwan

Mr Ubaid ur Rehman Awan

Senior sports journalist

Abbtakk News

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More