تازہ ترین
دیکھنا ہوگا زلفی بخاری مشیر رہ سکتے ہیں یا نہیں،چیف جسٹس

دیکھنا ہوگا زلفی بخاری مشیر رہ سکتے ہیں یا نہیں،چیف جسٹس

اسلام آباد: (05دسمبر،2018) سپریم کورٹ میں زلفی بخاری دہری شہریت کیس میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ دہری شہریت کے معاملے پرافضال بھٹی کوبھی فارغ کیاتھا،وہ بھی سمندر پار پاکستانیز محکمے کے مشیرتھے،دیکھنا ہے دہری شہریت والامشیررہ سکتا ہے یانہیں؟

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے وزیراعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری کی دہری شہریت سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

دوران سماعت زلفی بخاری کے خلاف درخواست گزار عادل چھٹہ نے عدالت سے کہا کہ ان کے وکیل ظفر نوری علاج کے لئے امریکا گئے ہیں، اس لیے سماعت پندرہ دسمبر تک ملتوی کی جائے۔

اس موقع پر زلفی بخاری کے وکیل اعتزاز احسن نے زلفی بخاری کی کامیابیوں کی تفصیلات کمرہ عدالت میں پڑھ کر سنائیں اور کہا زلفی بخاری وزیراعظم کے معاون خصوصی ہیں، زلفی بخاری کی فلموں کو ایوارڈ مل چکے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا یہ بتائیں پاکستان میں زلفی بخاری کب مشہور ہوئے، وہ لندن میں کسی کو گاڑی پر لیکر گئے تھے۔درخواست گزار نے جواب دیا کہ ریحام خان کی طلاق کے معاملے پر زلفی بخاری منظر عام پر آئے۔اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ذاتی معاملے پر زیادہ بات نہیں کریں گے، عدالت افضل بھٹی کو بھی ایسے عہدے سے ہٹا چکی ہے، زلفی بخاری کی کارکردگی سے کوئی سروکار نہیں، عدالت صرف اہلیت اور دہری شہریت کے معاملے کا جائزہ لے گی۔

اعتزاز احسن نے کہا ایسے پاکستانیوں کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیئے۔ چیف جسٹس نے کہا سچے پاکستانیوں کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیئے، ایسے نہیں جو جہاز میں پاکستان سے کسی کو لینے آتے ہیں۔وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ زلفی بخاری اپنی ساری تنخواہ ڈیم فنڈز کو دے رہے ہیں، جس پر کمرہ عدالت میں قہقہہ لگ گیا، بعد ازاں عدالت نے زلفی بخاری کیس کی سماعت 26 دسمبرتک ملتوی کر دی۔

بیس بار اقرپاروی کی بات کرونگا، چیف جسٹس

اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت نے جہانگیر ترین کیس میں اقربا پروری کی بات کی ہے، اس پر بہت ردعمل آیا، لیکن میں بیس دفعہ اقربا پروری کی بات کروں گا، کووارنٹو کے لئے اقربا پروری بہترین گراؤنڈ ہے، اگر کسی کو افسوس ہوا اس کے لئے عدالتی نظام میں تبدیلی نہیں کر سکتے، اگر تقرری میں اقربا پروری ہو گی تو ضرورعدالتی جائزہ لیں گے، ہمارا کام انتظامیہ کی تضحیک کرنا نہیں ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ غالبا کسی نے ان کو بتایا ہی نہیں کہ یہ مقدمہ کووارنٹو کا ہے، اقربا پروری تو ایک گراؤنڈ کے طور پر زیر بحث آیا تھا، درخواست گزار نے تو اقربا پروری کا مسئلہ اٹھایا ہی نہیں تھا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے سینئر صحافیوں کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ چیف جسٹس کی طرف سے اقربا پروری کے ریمارکس پر دکھ ہوا۔

عمران خان نے وزیراعلیٰ پنجاب اور زلفی بخاری کے معاملے پر چیف جسٹس کے ریمارکس پر بھی شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس کو دیکھنا چاہئے تھا کہ عثمان بزدار صوبے کے چیف ایگزیکٹیو ہیں جب کہ زلفی بخاری سے متعلق چیف جسٹس کے ریمارکس پر دکھ ہوا، میں نے کبھی اقربا پروری نہیں کی، چیف جسٹس کی عزت کرتا ہوں لیکن ان چیزوں پر افسوس ہے۔

یہ بھی پڑھیے

زلفی بخاری کیس: اسپیشل پراسیکیوٹرنیب عمران شفیق مستعفی

زلفی بخاری کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

Comments are closed.

Scroll To Top