تازہ ترین
مودی کے متعصب، تنگ نظر اور شدت پسند دیس میں عورت سب سے زیادہ غیر محفوظ

مودی کے متعصب، تنگ نظر اور شدت پسند دیس میں عورت سب سے زیادہ غیر محفوظ

ممبئی: (16 اکتوبر 2018) مودی کے متعصب اور تنگ نظر شدت پسند دیس میں غیر ملکی ہی نہیں بھارتی خواتین کی عصمتیں بھی محفوظ نہیں۔ می ٹو مہم کے بعد پارسائی اور شرافت کا ڈھونڈرا پیٹنے والے کئی چہرے بے نقاب ہوگئے۔ فلمی نگری ہی کیا ہر شعبہ میں خواتین کو کمزور سمجھ کر ان کا استحصال کیا جارہا ہے۔

بھارت کا معاشرہ تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔ پورا ملک صنف نازک کے لیے غیر محفوظ اور خطرناک بن گیا ہے۔ گھروں میں رہنے والی کام کاج کرنے والی سبھی خواتین ، مردوں کے ہاتھوں میں کھلونا بن کر رہ گئی ہیں۔

می ٹو مہم جب سے بھارت میں شروع ہوئی ہے تو شرافت کے بھیس میں ہوس کے کئی پجاریوں کے گھناونا روپ عیاں ہوتا جارہا ہے۔ ہر شعبہ میں صنف نازک فریاد کرتی نظر آرہی ہیں کہ انہیں بھارتی مردوں کی جنسی ہراسگی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہوتا جا رہا ہے جہاں خواتین کو صرف اور صرف اپنی ہوس کی پیاس بجھانے کے لیے استعمال کیا جاتاہے۔اداکارہ تنو شری دتہ نے ہمت کرکے نانا پاٹیکر کی پارسائی پر سے پردہ اٹھایا تو اس کے بعد ایک لہر چل پڑی۔ ناانصافیوں اور زیادتیوں کے خلاف بھارتی خواتین آواز اٹھا رہی ہیں۔بھارتی صحافی گوتم ادھیکاری کو امریکی تھنک ٹینک سے اپنا بوریا بستر گول کرنا پڑا کیونکہ تین خواتین نے ان پر بلا ضرورت چھیڑ چھاڑ کرنے کا الزام لگایا۔ کالم نگار اور صحافی پریا رامانی نے مودی کے فارن افئیرز کے جونئیر منسٹر ایم جے اکبر کی وہ رام کہانی سنا دی جس میں وزیر صاحب نے تنہائی کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی تھی۔بھارت کے سب سے بڑے اخبار کے ایڈیٹر پرشانت جھا بھی جنسی طور پر خاتون اسٹاف کو ہراساں کرنے کے الزام کے نرغے میں ہیں۔ اداکار پیوشی مشرا پر کیتا کی جوشی نے کچھ ایسا ہی الزام لگایا ہے۔

کنگنا رناوٹ نے ہدایتکار وکاس بہل پر چھیڑ چھاڑ اور غیر ضروری طور پر بلاتکلف ہونے کی شکایت کی ہے۔ کچھ ایسا ہی شکوہ شرافت کا ڈھونگ رچانے والے الوک ناتھ پر رائٹر ونتا نندا اور کئی اور اداکاراؤں نے لگایا ہے۔ سبھاش گھئی، ساجد خان اور کئی بڑی بڑی شخصیات کا اصل پول کھل گیا ہے۔بھارت کی مشہور صحافی برکھا دت نے موجودہ حالات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مودی کی حکومت میں صحافی، سرکاری اہلکار، رائٹرز، ہدایتکار سبھی بے لگام ہوگئے ہیں جو خواتین کی بے حرمتی ان کے ساتھ بدسلوکی کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ کوئی نہ کوئی چہرہ منظر عام پر آرہا ہے جو بتا رہا ہے کہ کب اور کیسے ان کو جنسی طور پر ہراساں کیا گیا۔ المیہ یہ ہے کہ یہ بپتا صرف فلمی اداکاراؤں پر نہیں ٹوٹی بلکہ ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والی عورت اس سے متاثر ہے۔

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top