تازہ ترین
سپریم کورٹ کا اصغر خان عملدرآمد کیس بند نہ کرنے کا فیصلہ

سپریم کورٹ کا اصغر خان عملدرآمد کیس بند نہ کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد:(11 جنوری 2019) سپریم کورٹ نے اصغر خان کیس پر عملدرآمد ختم کرنے کے لیے ایف آئی اے کی سفارش مسترد کردی ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں اصغر خان عملدرآمد کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ اصغرخان کی زندگی کا بڑا حصہ اس کیس میں گزرا،اصل تحقیقات کا وقت آیا تو رکاوٹیں آنے لگیں۔

ایف آئی اے کہتا ہے کہ ان کے پاس شواہد نہیں تاہم عدالت نے تاحال کیس بند نہیں کیا، عدالت کا مقصد صرف دوافسران کیخلاف تحقیقات نہیں، عدالت اصغر خان کے اہلخانہ کے ساتھ کھڑی ہے، اصغر خان کی جدوجہد رائیگاں نہیں جانے دیں گے،معاملےکی مزید تحقیقات کرائیں گے۔

اس موقع پر درخواست گزار کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے عدالت میں بتایا کہ جس فوجی افسر نے رقم تقسیم کرنا تسلیم کیا اس کا بیان نہیں لیا گیا، عدالت با ضابطہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سیکرٹری دفاع آکر بتائیں تحقیقات میں کیا پیشرفت ہوئی، ہر ادارہ سپریم کورٹ کو جوابدہ ہے۔

اس موقع پر ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے کہا کہ ایف آئی اے کا مینڈیٹ فوجداری تحقیقات کا تھا، ایف آئی اے نے 10 سیاستدانوں سے تحقیقات کرنا تھیں جس میں سے 6 سیاستدان انتقال کر چکے ہیں، بقیہ سیاسی رہنماؤں نے رقم وصول سے انکار کیا، بریگیڈیر صاحب سے پوچھا گیا کہ پیسے کیسے دیئے مگر کچھ ثابت نہیں کیا، چالان کے لئے ضروری ہے کہ شواہد ہوں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کم از کم اس کیس میں اصغر خان کیس فیملی سے بھی پوچھ لیتے، عدالتی فیصلے کے ایک ایک صفحے سے ثابت ہوا کہ یہ اسکینڈل ہوا ہے۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد اصغر خان کیس پر عملدرآمد ختم کرنے کے لیے ایف آئی اے کی سفارش مسترد کردی۔

بعدازاں سپریم کورٹ آف پاکستان نے اصغرخان عملدرآمد کیس کی سماعت 25 جنوری تک ملتوی کردی۔

Comments are closed.

Scroll To Top