تازہ ترین
ملا فضل اللہ سمیت تین دہشت گردوں کے سروں کی قیمت مقرر

ملا فضل اللہ سمیت تین دہشت گردوں کے سروں کی قیمت مقرر

واشنگٹن: (09 مارچ 2018) پاک امریکہ مذاکرات سے چند گھنٹے قبل امریکہ نے طالبان کمانڈر ملا فضل اللہ،عبدالولی اور منگل باغ کے سروں کی قیمت مقرر کردی ہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ ملافضل اللہ، منگل باغ اور جماعت الحرار کے سربراہ عبدالولی کی اطلاع دینے والوں کے لیے انعامات کا اعلان کیا ہے۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

امریکہ نے ملافضل اللہ کے حوالے سے اطلاع دینے والے کے لیے 50 لاکھ ڈالر جبکہ لشکراسلام کے سرغنہ منگل باغ اور کالعدم تنظیم جماعت الاحرار کے سربراہ عبدالولی کا پتہ بتانے پر30 لاکھ ڈالر انعام کا اعلان کیا ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے ملا فضل اللہ نے آرمی پبلک اسکول پرحملے کا اعتراف کیا تھا جس میں معصوم بچوں سمیت 148افراد شہید ہوئے تھے، اس کے علاوہ کالعدم ٹی ٹی پی کے سربراہ نے 2010 میں ٹائمزاسکوائر نیویارک میں حملے کی کوشش کی تھی۔

ملا فضل اللہ سوات میں طالبان کے دور میں بڑے پیمانے کو قتل کروانے کے بھی ذمہ دار سمجھے جاتے ہیں اور انھوں نے امن کی نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی پر بھی قاتلانہ حملہ کروایا تھا، ملا فضل اللہ کے گروپ نے دیر میں پاکستان فوج کے میجر جنرل ثنا اللہ نیازی کی ہلاکت کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی۔ملا فضل اللہ کو 2013 میں حکیم اللہ محسود کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد تحریک طالبان پاکستان کا سربراہ چنا گیا تھا۔

یاد رہے کہ 13 جنوری 2015 کو امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ ملا فضل اللہ کو عالمی دہشت گرد قرار دیا تھا۔یاد رہے کہ دوہزار پندرہ میں بھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے طالبان کے سربراہ ملا فضل اللہ کو عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے پابندیاں عائد کردیں۔

امریکی میڈیاکے مطابق ان پابندیوں کے بعد ملا فضل اللہ کے تمام اثاثے منجمد کئے گئے تھے اور اس کی نقل و حرکت پر بھی پابندی عائد کردی گئی تھی، ملا فضل اللہ کو دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث ہونے اور ان کارروائیوں میں مالی معاونت فراہم کرنے پر اس فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

افغان حکومت کا طالبان رہنما ملا فضل اللہ کی افغانستان میں موجودگی سے انکار

سلامتی کونسل نے ملا فضل اللہ کو عالمی دہشتگرد قراردیدیا

Comments are closed.

Scroll To Top