تازہ ترین
افغانستان میں مولوی فضل اللہ کے مارے جانے کی غیر مصدقہ اطلاعات

افغانستان میں مولوی فضل اللہ کے مارے جانے کی غیر مصدقہ اطلاعات

کابل : (15 جون 2018) افغانستان کے صوبے کنڑ میں امریکی ڈروں حملے میں تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ مولوی فضل اللہ کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔

افغانستان کے صوبے کنٹر میں ڈرون حملہ میں غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ مولوی فضل اللہ کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔

ویڈیو دیکھنے کے لیے پلے کا بٹن دبائیے

افغانستان میں امریکی فورسز کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل مارٹن اوڈونل کے مطابق ڈرون حملے میں ایک سرکردہ طالبان رہنما مارا گیا ہے۔مولوی فضل اللہ کے مارے جانے کی افغان حکومت نے بھی تصدیق نہیں کی ہے۔یہ خبر ایک ایسے وقت منظر عام پر آئی ہے جب عید الفطر کے موقع پر افغان حکومت اور طالبان نے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، 2001 میں افغانستان پر امریکی حملے کے بعد سے یہ پہلا موقع ہے کہ طالبان نے غیر مشروط جنگ بندی کا اعلان کیا۔

فضل اللہ 1974 میں سوات میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق یوسفزئی قبیلے کی بابوکارخیل شاخ سے ہے اور وہ ایک پاؤں سے معمولی معذور بھی ہیں،انھیں 2013 میں حکیم اللہ محسود کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد تحریک طالبان پاکستان کا سربراہ چنا گیا تھا۔وہ سوات میں طالبان کے دور میں بڑے پیمانے پر قتل و غارت کے بھی ذمہ دار سمجھے جاتے ہیں اور انھوں نے امن کا نوبل انعام حاصل کرنے والی پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی پر بھی قاتلانہ حملہ کروایا تھا۔پاکستانی حکام 2014 میں پشاور میں آرمی پبلک سکول پر طالبان شدت پسندوں کے حملے کا ماسٹر مائنڈ بھی ملا فضل اللہ کو ہی قرار دیتے ہیں۔ اس حملے میں 148 افراد ہلاک ہوئے جن میں اکثریت بچوں کی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

ملا فضل اللہ سمیت تین دہشت گردوں کے سروں کی قیمت مقرر

آرمی چیف کا امریکی وفد سے افغانستان میں ملا فضل اللہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

Spread the love

Comments are closed.

Scroll To Top