تازہ ترین
ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان سے طالبان مذاکرات کے لئے تعاون مانگ لیا

ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان سے طالبان مذاکرات کے لئے تعاون مانگ لیا

اسلام آباد: (03دسمبر،2018) امریکہ کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر پاکستان کی اہمیت کا اندازہ ہوا ہے، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خط کے زریعے وزیراعظم پاکستان سے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے مدد مانگی ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے آج سینئر صحافیوں اور اینکرز سے ملاقات کی جس میں ملکی صورتحال پر بات چیت کی گئی،اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ انھیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایک خط موصول ہوا ہے۔

یہ ویڈیو دیکھنے کیلئے پلے کا بٹن دبائیے

وزیراعظم عمران خان نے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خط میں افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے پاکستان کا تعاون مانگا ہے۔اس کے علاوہ امریکی صدر نے اپنے خط میں دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے کردار کی تعریف کی، جس پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ امریکا بھی سمجھ گیا ہے کہ افغانستان میں پاکستان کے بغیر امن قائم نہیں ہو سکتا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان میں قیام امن کے لئے ہر ممکن کردار ادا کریں گے، ماضی میں امریکا کے ساتھ معذرت خواہانہ رویہ اپنایا گیا لیکن ہم نے امریکا کو برابری کی سطح پر جواب دیا۔

عمران خان نے کہا کرتارپورراہداری گگلی نہیں ایک سیدھاسادہ فیصلہ ہے، ہم نےبھارت کانفرت پھیلانےکامنصوبہ ناکام بنایا، میں نے کبھی اقرباپروری نہیں کی۔ان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف لاپتہ افراد کامسئلہ حل کرنےکے لئے ہمارے ساتھ ہیں ، آج ہم اسٹینڈنگ کمیٹیاں بنارہے ہیں، جنوبی پنجاب صوبےکے معاملے پر ہماری خصوصی دلچپسی ہے۔

امریکی ڈالر کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا ٹی وی پرخبریں دیکھ کرڈالراوپرجانےکاپتہ چلا، اسٹیٹ بینک نے ڈی ویلیوشن کی تھی، طریقہ کاربنارہےہیں کہ حکومت کو بتائے بغیرڈی ویلیوشن نہ کی جائے، پہلےبھی ڈالرکی قیمت میں اچانک اضافہ ہواتومیڈیاسےپتہ چلا تھا۔دوسری جانب رواں ماہ ایک ٹی وی انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے کہاتھا کہ پاکستان نے ہمارے لیے کچھ بھی نہیں کیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان کو سالانہ ایک ارب 30 کروڑ ڈالر سے زیادہ دیتے تھے، ہم پاکستان کو سپورٹ کر رہے تھے اور القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن وہاں ملٹری اکیڈمی کے قریب آرام سے رہائش پزیر تھا۔پاکستان میں ہر کوئی اسامہ بن لادن کے بارے میں جانتا تھا لیکن انہوں نے ہمیں اس حوالے سے آگاہ نہیں کیا۔

امریکی صدر نے بعدازاں ٹوئٹر پر بھی اسی قسم کے بیانات داغے، جس پر پاکستانی قیادت کی جانب سے بھرپور ردعمل سامنے آیا۔

اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے امریکی صدر کا ریکارڈ درست کرتے ہوئے کہا  تھا کہ نائن الیون حملوں میں کوئی پاکستانی ملوث نہیں تھا، ڈونلڈ ٹرمپ کے غلط دعوے دہشتگردی کے خلاف امریکی جنگ میں پاکستان کو جانی و مالی نقصان کی صورت میں لگنے والے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔

عمران خان نے مزید کہنا کہ امریکی صدر کو تاریخی حقائق سے آگاہی کی ضرورت ہے، پاکستان نے امریکی جنگ میں بہت زیادہ نقصان اٹھایا ہے لیکن اب ہم وہی کریں گے جو ہمارے اور ہمارے لوگوں کے مفاد میں بہتر ہوگا۔وزیراعظم کا مزید کہنا کہ امریکی صدر کو تاریخی حقائق سے آگاہی کی ضرورت ہے، پاکستان نے امریکی جنگ میں بہت زیادہ نقصان اٹھایا ہے

واضح رہے کہ رواں برس یکم جنوری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان مخالف ٹوئیٹ کے بعد سے ہی دونوں ملکوں کے تعلقات تناؤ کا شکار ہیں۔

ٹرمپ نے اپنے پیغام میں پاکستان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ ہم نے گزشتہ 15 سالوں کے دوران پاکستان کو 33 ملین ڈالر امداد دے کر حماقت کی جبکہ بدلے میں پاکستان نے ہمیں دھوکے اور جھوٹ کے سوا کچھ نہیں دیا۔

بعدازاں اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے بھی پاکستان کی سیکیورٹی معاونت معطل کرنے کا اعلان کردیا جبکہ پاکستان کو مذہبی آزادی کی مبینہ سنگین خلاف ورزی کرنے والے ممالک سے متعلق خصوصی واچ لسٹ میں بھی شامل کردیا گیا۔

امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ہیدر نوئرٹ کا کہنا تھا کہ حقانی نیٹ اور دیگر افغان طالبان کے خلاف کارروائی تک معاونت معطل رہے گی۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان نتائج دیکر اعتماد بحال کرے، امریکا

امریکہ ڈالر نہیں،کشیدہ تعلقات بہتر کرنے آیاہوں، وزیر خارجہ

Comments are closed.

Scroll To Top